Aaj Logo

شائع 26 جولائ 2023 12:53pm

مقدموں اور الزامات نے بالآخر ٹرمپ کی مقبولیت گرا دی

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں دو مقدمات اور ممکنہ طور پر تیسرے میں مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے، نے رواں سال کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2024 کے انتخابات میں ایک بار پھر صدر کا انتخاب لڑیں گے۔ لیکن ٹرمپ کیلئے اب کامیابی کے حصول میں ان کی گرتی مقبولیت آڑے آسکتی ہے۔

ایک نئے جائزے کے مطابق ریپبلکنز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

پیو کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تمام سیاسی وابستگیوں سے تعلق رکھنے والے 63 فیصد امریکی وں کی ٹرمپ کے بارے میں منفی رائے ہے جو گزشتہ سال کے 60 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

66 فیصد کے ساتھ ریپبلکن یا ریپبلکن کی جانب جھکاؤ رکھنے والے افراد کی اکثریت اب بھی سابق صدر کو موافق انداز میں دیکھتی ہے، لیکن یہ گزشتہ جولائی کے 75 فیصد کے مقابلے میں 9 فیصد کم ہے۔

گزشتہ جولائی میں دائیں بازو کے تقریبا ایک چوتھائی لوگوں نے ٹرمپ کو انتہائی یا زیادہ تر ناپسندیدہ سمجھا، اب یہ تعداد بڑھ کر 32 فیصد ہو چکی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی بھی ٹرمپ کے بارے میں یہی رائے ہے۔ سروے میں شامل 91 فیصد ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو ناپسندیدہ قرار دیا۔ ان میں سے 78 فیصد نے اسے انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا۔

صرف 8 فیصد ڈیموکریٹس ٹرمپ کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔

اس کے برعکس عام لوگوں میں امریکی صدرجو بائیڈن کی مقبولیت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا 4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ نائب صدر کملا ہیرس سے متعلق مثبت رائے بھی زشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد سے کم ہو کر 36 فیصد رہ گئی ہے۔

’فائیو تھرٹی ایٹ‘ کے مطابق 2024 کے صدارتی انتخابات کے لیے ٹرمپ اب بھی انتہائی دائیں بازو کے فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس سے آگے ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کی قانونی پریشانیاں ان کی انتخابی مہم کو کس طرح متاثر کریں گی۔

رواں سال سابق صدر پر فلوریڈا کے مار اے لاگو میں خفیہ دستاویزات کو غلط طریقے سے سنبھالنے کے 37 الزامات اور نیویارک میں جعلی کاروباری ریکارڈ بنانے کے 34 الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ دونوں مقدمات میں ٹرائل کی تاریخیں 2024 کے پرائمری سیزن کے دوران مقرر کی گئی ہیں۔

ٹرمپ کو 2021 میں واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل میں 6 جنوری کی بغاوت کو بھڑکانے میں اپنے کردار کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سروے میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ ٹرمپ اپنی ہی پارٹی کی نظروں میں کیوں آئے، لیکن جی او پی کے اندر بہت سے لوگ 2024 کے اپنے امیدوار کے طور پر ٹرمپ کے لئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کر رہے ۔

الاسکا سے تعلق رکھنے والی سینیٹر لیزا مرکوسکی نے مئی میں دی ہل کو بتایا تھا کہ وہ ’یقینی طور پر‘ ٹرمپ اور ڈی سانٹس کے متبادل کی تلاش میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ ریپبلکن پارٹی کا چہرہ ہے، اگر یہ مقابلہ ہے تو ریپبلکنز تباہ ہو جائیں گے۔‘

Read Comments