Aaj Logo

شائع 04 اگست 2023 09:10am

ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کے نتائج کالعدم قرار دینے کےالزامات کا اعتراف کرلیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دینے کے الزامات کا اعتراف کر لیا ۔

سابق امریکی صدر پر 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج میں ردو بدل کرنے کی کوششوں اور کیپیٹل ہل میں بغاوت کو ہوا دینے جیسے جرائم کے الزامات پر وفاقی محکمہ انصاف کی طرف سے فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

عدالت سے نکلنے کے بعد ورجینیاائرپورٹ پر ٹرمپ نے کہا کہ ’ یہ ایک سیاسی مخالف پر ظلم و ستم ہے ، امریکا میں ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا’۔

ٹرمپ نے درخواست جمعرات کی سہ پہر واشنگٹن ڈی سی میں بیریٹ پریٹیمین یونائیٹڈ اسٹیٹس کورٹ ہاؤس میں سماعت کے دوران دائر کی تھی۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔

دو روز قبل امریکی پراسیکیوٹرز نے ٹرمپ کے خلاف چار وفاقی الزامات دائر کیے تھے، جن میں ریپبلکن سیاستدان پر 2020 کے انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس میں وہ اپنے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن سے ہار گئے تھے۔

یہ مارچ کے بعد سے سابق صدر کے خلاف دائر کی جانے والی تیسری مجرمانہ فرد جرم ہے۔ ٹرمپ کو نیو یارک میں ایک بالغ فلم اسٹار کو مبینہ طور پر خفیہ رقم کی ادائیگی اور دیگر الزامات کا بھی سامنا ہے جو ان الزامات سے متعلق ہیں کہ انہوں نے اپنی فلوریڈا اسٹیٹ میں خفیہ سرکاری دستاویزات کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا۔

2024 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کی دوڑ میں سب سے آگے رہنے والے ٹرمپ نے ان تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے انہیں اپنی انتخابی مہم کو پٹری سے اتارنے کی کوشش قراردیا ہے۔

تاہم تازہ ترین فرد جرم ٹرمپ کی راہ میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2020 کے انتخابات میں مداخلت کا مقدمہ تین مجرمانہ الزامات میں سے سب سے اہم ہے، ایک نے اسے ”شاید ملک کی تاریخ کا سب سے اہم قانونی مقدمہ“ قرار دیا۔

فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے بائیڈن کی 2020 کی جیت کو روکنے کی کوشش میں ”جائز ووٹوں کو نظر انداز کرنے اور انتخابی نتائج کو توڑنے کے غیر قانونی طریقوں کا استعمال کیا“۔

استغاثہ نے 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل حملے سے قبل کے واقعات میں ٹرمپ کے ملوث ہونے پر روشنی ڈالی، جب ان کے حامیوں کے ایک ہجوم نے کانگریس کو بائیڈن کی انتخابی جیت کی تصدیق کرنے سے روکنے کے لئے عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔

قانونی تجزیہ کار اور میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں سابق پراسیکیوٹر ڈیبی ہائنز نے جمعرات کو الجزیرہ کو بتایا کہ یہ مقدمہ ”امریکی قانونی نظام کے ساتھ ساتھ امریکی جمہوریت کا امتحان ہوگا“۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکا میں جرائم کے ملزم ہر مدعا علیہ کو اسی قانونی عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ٹرمپ گزریں گے۔ ملزم کو عدالت میں اس وقت تک بے قصور سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اسے کسی بھی جرم میں سزا نہیں دی جاتی، اور اسے جیوری کے سامنے مقدمہ چلانے کا حق حاصل ہے۔

ہائنز کا کہنا تھا کہ ’لیکن اس کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، یہاں تک کہ امریکا کا سابق صدر بھی نہیں‘۔

تاہم ٹرمپ نے دلیل دی تھی کہ ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول شہر واشنگٹن ڈی سی میں منصفانہ ٹرائل ان کے لیے ’ناممکن‘ ہوگا۔

عدالت میں پیشی سے قبل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں سابق صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے خلاف ’جعلی مقدمہ‘ مغربی ورجینیا جیسے غیر جانبدار مقام پر منتقل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اپنی ٹروتھ سوشل ویب سائٹ پر لکھا کہ ’یہ فرد جرم انتخابی مداخلت‘ کے بارے میں ہے۔

ٹرمپ کی وکیل علینا ہبا نے بھی جمعرات کے روز ان الزامات کی تجدید کی کہ سابق صدر کو 2024 کی انتخابی مہم کو ناکام بنانے کے لیے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہبا نے میڈیا کو بتایا، “یہ اس وقت کسی بھی پارٹی کے صدر کے لیے سب سے بڑے امیدوار کے خلاف انتخابی مداخلت ہے’۔

اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹرمپ کی قانونی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے لیکن حالیہ رائے شماری کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے حامیوں میں ان کی پوزیشن اب بھی مضبوط ہے۔

نیو یارک ٹائمز اور سینا کالج کے سروے کے مطابق ٹرمپ کو جی او پی پرائمری ووٹرز میں 54 فیصد حمایت حاصل ہے جبکہ ان کے قریبی حریف فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس کو 17 فیصد حمایت حاصل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی جزوی وجہ یہ ہے کہ امریکی رائے دہندگان کا ایک بڑا حصہ ٹرمپ کے خلاف مجرمانہ الزامات کو 2024 میں دوبارہ انتخابات کی مہم میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔

Read Comments