Aaj Logo

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2023 07:59pm

سائفر کیس: عمران خان کی ضمانت اور اخراج مقدمہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی ضمانت اور اخراج مقدمہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت اور اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی۔

ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کی معلومات پبلک تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہیں تھے، یہ سائفر ایک سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں، سیکرٹ دستاویز کی معلومات پبلک کرنے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اس جرم کی سزا 14 سال قید یا سزائے موت بنتی ہے۔

راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ سیکرٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے پر بطور وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل نہیں، سائفر کوڈڈ ہوتا ہے تاکہ وہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگے، انہوں نے چین آف کسٹڈی بتائی کہ دفتر خارجہ میں سائفر اسسٹنٹ نعمان نے سائفر وصول کیا جو فارن سیکرٹری سے ہوتا ہوا آخر میں اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان تک پہنچا۔ اعظم خان کے لاپتہ ہونے پر مقدمہ درج ہوا مگر وہ تفتیشی افسر کے سامنے خود پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا۔

ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے بتایا کہ سائفر والے کیس میں دباؤ تھا اس لیے ذہنی سکون کے لیے وہ کچھ عرصہ کے لیے غائب ہو گئے تھے، وہ اس کیس کے اہم ہیں۔

راجہ رضوان عباسی نے ٹرائل کورٹ کے گواہوں کے بیان پڑھا شروع کیے تو بیرسٹر سلمان صفدر نے اعتراض کیا۔

اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ سائفر 9 مارچ کو پی ایم آفس میں وصول ہوا اور اسے جلد واپس کرنا ہوتا ہے، سائفر کو جلد از جلد واپس کرنا ہوتا ہے، اگراس پرنیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ بلانی تھی تو فورا بلاتے۔

شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ جلسے میں سائفر لہرایا اور سیاسی فائدے کے لیے معلومات پبلک کیں، 8 اپریل کو کابینہ اجلاس میں تجویز آئی کہ سائفر کو ڈی کلاسیفائیڈ کر دیا جائے، سیکرٹری خارجہ سمیت دیگر کے شدید اعتراض پر یہ تجویز مسترد ہو گئی، صرف چیف جسٹس سمیت 5 افراد کے لیے ڈی کلاسیفائی کیا گیا، پبلک کے لیے نہیں۔ 9 مارچ سے 27 مارچ تک کیا ہوا؟ نہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا گیا، پٹیشنر کے وکیل نے خود اعتراف کیا کہ سائفر کی معلومات پبلک کی گئی تھیں۔

اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور ایڈووکیٹ کے دلائل کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جوابی دلائل شروع دیتے ہوئے کہا کہ سائفر سے سیکیورٹی میتھڈ کیسے کمپرومائز ہو گیا ہے؟ یہ نہیں بتایا گیا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کو جتنا مرضی کھینچ لیں، اس کیس پر اطلاق نہیں ہوتا۔

سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے مقدمہ اخراج کی درخواست پر جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کہا گیا سائفر کی معلومات پبلک کرنے کا اعتراف کرلیا، میں قطعا کسی بات کا اعتراف نہیں کر رہا، چیئرمین پی ٹی آئی نے نے پبلک کو کوئی سائفر نہیں دکھایا بلکہ علامتی طور پر ایک کاغذ لہرایا تھا۔

لطیف کھوسہ نے یہ بھی کہا کہ ڈی کوڈ ہونے والا سائفر تو آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئیکے پاس بھی ہوگا، لیٹر شہباز شریف اور خواجہ آصف کے پاس بھی گیا، اس پر تو سفارتی سطح پر شدید احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

بعدازاں عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ضمانت اور اخراج مقدمہ کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ محفوظ کیا۔

سائفر کیس میں عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نہ مل سکا

اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نہ مل سکا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کی جیل سماعت کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست خارج کردی۔

عدالتی فیصلے کے سامنے آنے والے نکات کے مطابق سائفر کیس کی جیل سماعت کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کو ریلیف ن مل سکا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سائفر کیس میں جیل ٹرائل سیکیورٹی کے مد نظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے، بظاہرجیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بدنیتی نظر نہیں آئی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عمران خان خود اپنی سیکیورٹی کے حوالے متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کاز لسٹ میں بتایا گیا تھا کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر آج محفوظ فیصلہ سنائیں گے۔

مزید پڑھیں

’پہلے سے زیادہ مضبوط اور فِٹ ہوں‘ جیل سے عمران خان کا بیان انٹرنیشنل میڈیا پر توجہ کا مرکز

’عمران، آرمی چیف، نواز شریف سمیت 6 لوگوں کو ساتھ بیٹھ کر مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا‘

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کا بیٹوں سےٹیلیفونک رابطہ کروانے سے انکار کردیا

واضح رہے کہ عمران خان نے کیس کی سماعت جیل کی بجائے عدالت میں سماعت کی استدعا کررکھی تھی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے 12 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دوسری جانب سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے بھی عمران خان پر فرد جرم کے لیے 17 اکتوبر کی تاریخ دے رکھی ہے۔

سائفرمعاملہ کیا ہے؟

واضح رہے کہ مارچ 2022 میں ایک جلسے کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی جیب سے خط نکال کر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ان کی بیرونی پالیسی کے سبب ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ تھی اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز بھیجے گئے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا جس میں انہوں نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔

سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

Read Comments