Aaj Logo

شائع 17 اکتوبر 2023 05:07pm

قیدیوں کی رہائی کیلئے حماس سے بات کر رہے ہیں، ترک وزیر خارجہ

ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان کا کہنا ہے کہ ترکیہ فلسطینی گروپ حماس کے ساتھ غیر ملکیوں، سویلینز اور گروپ کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے بچوں کی رہائی کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

بیروت میں اپنے لبنانی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ کئی ممالک نے ترکیہ کو درخواستیں بھیجی ہیں کہ وہ حماس کے زیر حراست اپنے شہریوں کی رہائی کو یقینی بنائے۔

فیدان نے مزید کہا کہ مصر ہفتے کو اسرائیل فلسطین تنازع پر رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

ترک وزارت خارجہ کے ایک ذرائع نے ”العریبیہ“ کو بتایا کہ پیر کو فیدان نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ سے بات کی ہے۔

خبر رساں ادارے ”روئٹرز“ کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے ہفتے کے روز قاہرہ میں اپنے ہم منصب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حماس گروپ کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کے دوران غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جلاوطنی مسترد کرنے میں ترکیہ مصر کے ساتھ کھڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، فیدان نے کہا کہ تنازعات کو پھیلنے سے روکنے اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے دو ریاستی حل کے حصول پر مرکوز امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں

سلامتی کونسل اجلاس: غزہ میں انسانی بنیادوں پرجنگ بندی کیلئے روسیقرارداد ناکام

مصر اور غزہ کی بارڈر کراسنگ کھل گئی، جنگ بندی سے نیتن یاہو کا انکار،امریکی صدر کی وارننگ

ہم پوری طرح تیار ہیں، منصوبہ کے تحت کارروائی کریں گے، نائب سربراہ حزباللہ

انہوں نے کہا کہ ’ہم فلسطینیوں کو غزہ میں ان کے گھروں سے نکال کر مصر میں جلاوطن کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم مکمل طور پر اس کے خلاف ہیں اور مصر کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ کسی کی زمین اور گھر پر قبضہ کر رہے ہیں، آپ کسی کے گھر کو تباہ کر رہے ہیں، آپ کسی کو اٹھا کر باہر پھینک رہے ہیں، آپ کسی اور کو لا کر وہاں بسا رہے ہیں اور اسے آباد کار کہتے ہیں، حقیقت میں اسے کہتے ہیں چوری۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی جانوں کے ضیاع کو روکنا ضروری ہے قطع نظر اس کے کہ وہ کس طرف ہیں۔ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ ریاستیں غزہ پر اسرائیل کے حملوں کو جائز اقدام کے طور پر جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہم اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار پر قائم رہنے کی دعوت دیتے ہیں‘۔

Read Comments