نیا ایندھن دریافت، حادثے کی صورت میں بھی آگ نہیں پکڑے گا

ایندھن کو دوسری جگہ منتقلی کرتے ہوئے حادثاتی طورپرآگ نہیں لگ سکتی
شائع 08 دسمبر 2023 02:09pm

آگ اورایندھن کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن اب ایک ایسا ایندھن بھی دریافت کرلیا گیا ہے جس میں ایک سے دوسری جگہ منتقلی کے دوران آگ نہیں لگ سکتی۔

یہ کارنامہ امریکی سائنسدانوں کا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ اس ایندھن کے ذخیرے یا پھراس کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی کرتے ہوئے اس میں حادثاتی طورپرآگ نہیں لگ سکتی۔

جرنل آف دی امریکن کیمیکل سوسائٹی کے نئے تحقیقی مقالے کے مطابق اس نئے ایندھن کو جلنے کے لیے برقی کرنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

عموماً ہوتا یہ ہے کہ جب ایندھن آگ پکڑے تو مائع کے بجائے جلنے والی شے اس کے اوپر اڑتے مستحکم بخارات ہوتے ہیں جو آکسیجن اور آگ کے ملاپ پربھڑک اٹھتے ہیں۔

تحقیق کے شریک مصنف پرتھوش بسواس کا کہنا ہے کہ ایندھن سے بھرے ٹب میں ماچس کی تیلی پھینکیں تو درحقیقت اس کے بخارات جلتے ہیں، اگ بخارات قابو کیے جاسکتے ہیں تو پھر ایندھن کاجلنا بھی قابو میں آسکتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ایندھن بیس (آئیونک مائع کی ایک قسم) کا کیمیکل فارمولا تبدیل کرتے ہوئے کلورین کی جگہ پرکلوریٹ شامل کی۔ اس کے بعد تجربہ کرتے ہوئے سگریٹ لائٹر کے استعمال کے باوجود مائع نے آگ نہیں پکڑی ،لیکن مائع میں کرنٹ چھوڑنے پرایندھن نے آگ پکڑلی۔

Read Comments