Aaj Logo

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2023 03:45pm

مویشیوں کے گوبر پر بھی ماحولیاتی تبدیلی کے ماہرین کو اعتراض، کوپ 28 میں نئی جنگ

دبئی میں ہونے والے کوپ 28 کا اجلاس میں زرعی کمپنیوں اور تجارتی گروپوں کے نمائندوں کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت تین گنا زیادہ ہوگئی ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق اجلاس میں دنیا کی سب سے بڑی زرعی کاروباری کمپنیوں کے نمائندے موجود ہیں، جیسے گوشت فراہم کرنے والی کمپنی جے بی ایس، کھاد کی بڑی کمپنی نیوٹریئن، فوڈ کمپنی نیسلے دیگر صنعتوں کے نمائندے موجود تھے۔

گوشت اور دودھ کی شعبے کی نمائندگی کرنے والوں کی تعداد 120 تھی لیکن ایک تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ زرعی کاروبار کے مفادات کی وسیع پیمانے پر نمائندگی کرنے والوں کی تعداد 2022 سے دُگنی ہو کر340 تک پہنچ گئی ہے۔

خاص طور پر گوشت اور ڈیری کمپنیوں کی مویشیوں سے ہونے والی آلودگی کی وجہ سے جانچ پڑتال کی جارہی ہے، جو میتھین گیس کی عالمی پیداوار کا تقریباً ایک تہائی اخراج کرتی ہے، جس میں کمی سےعالمی حرارت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

برازیل کی ایک چھوٹے پیمانے پر کسانوں کی نمائندہ کرینہ گونکالویس ڈیوڈ بھی طاقتور اور آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں کی موجودگی سے پریشان ہیں۔

دنیا کی ٹاپ پانچ گوشت کی کمپنیوں کا اخراج تیل کی کمپنیوں جیسے کہ شیل اور بی پی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ دودھ کے شعبے کا 3.4 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔

برازیل اور ارجنٹائن گائے کے گوشت کے بڑے پروڈیوسر ہیں، انہوں نے گوشت کھانے کو کم کرنے کے بارے میں سائنسی سفارشات پر پانی پھیر دیا۔

اجلاس میں دنیا کی چھ بڑی دودھ کی کمپنیوں نے بھی اپنے اخراج کو ظاہر کرنے کا عہد کیا لیکن وہ اس شعبے کی میتھین آلودگی کو کم کرنے کے اہداف مقرر کرنے میں ناکام رہی، جو کہ دنیا کُل کا 10 فیصد ہے۔ مہم چلانے والے بتاتے ہیں کہ دودھ کی صنعت آئندہ دہائی میں 70 فیصد سے زیادہ ترقی کرنے کا منصوبہ ہے۔

واضح رہے کہ کوپ 28 کے دوران کوپ فورم کو سب کے لیے قابل قبول بنانے کے ساتھ ’پیرس معاہدے‘ کے اہداف کے حصول کا جائزہ اور متبادل توانائی کے ذرائع کے استعمال سے 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کے اہداف مقرر کیے جائیں گے۔

Read Comments