’کھدائی سے پہلے سوچنا چاہیئے تھا کہ مٹی کا کیا کرنا ہے‘

لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کیس میں مختلف محکموں سے کارکردگی رپورٹس طلب کرلیں
شائع 02 فروری 2024 03:07pm

لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کے تدارک کیس میں درختوں کی دیکھ بھال سے متعلق آئندہ سماعت پر پی ایچ اے سے رپورٹ طلب کرلی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک کے لیے ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔

عدالتی حکم پر ممبر جوڈیشل کمیشن، محکموں کے افسران اور وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالتی معاون نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جن انڈسٹری یونٹس نے جرمانہ جمع نہیں کروایا، انہیں نہیں کھولا گیا، فروری کے اختتام تک پانی کے میڑز کا کام شروع ہو جائے گا، لاہور کا واٹر لیول اپنی جگہ رک گیا ہے، عدالت کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے، ورنہ ہر سال آدھا میٹر لیول نیچے جا رہا تھا۔

ڈاریکٹر پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ ہم نے ایک موبائل ایپ بنائی ہے، جس کے ذریعے کوئی شخص پودے ڈونیٹ یا لگانے کی غرض سے پودے حاصل بھی کر سکتا ہے۔

عدالت نے پی ایچ اے اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو لاہور نہر کی صفائی اور درختوں کی کٹائی کے حوالے سے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔

جسٹس شاہد کریم نے ریماکس دیے کہ نہر کی کھدائی سے پہلے سوچنا چاہیئے تھا کہ مٹی کا کیا کرنا ہے، نہر کا کچرہ باہر سڑک پر آیا ہوا ہے، لوگوں کے گھروں میں بل جائیں گے تو انہیں پانی کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔

عدالت نے اسموگ کیس کو اگلے جمعے تک ملتوی کرتے ہوئے تمام محکموں سے رپورٹس طلب کر لیں۔

Read Comments