Aaj Logo

اپ ڈیٹ 12 فروری 2024 11:30pm

پی ٹی آئی حکومت کیسے بنائے گی؟ شیر افضل مروت کا بڑا انکشاف

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئیر نائب صدر شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ ہمیں آگے کی ہدایات بانی پی ٹی آئی عمران خان سے لینی ہیں لیکن مبینہ طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے چھٹی پر جانے کی وجہ سے ہمیں ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

آج نیوز کے پروگرام ”اسپاٹ لائٹ“ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس قومی اسمبلی کی 185 سیٹیں ہیں، فارم 45 کی بنیاد پر پی ٹی آئی نے پاکستان بھر میں کلین سویپ کیا ہے، پی ٹی آئی کو دو تہائی سے زیادہ اکثریت ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو جو 17 سیٹیں دی گئیں وہ ہماری ہیں، نواز لیگ صرف 21 حلقوں میں جیتی ہے باقی ساری سیٹیں ہماری ہیں، اسی طرح پیپلز پارٹی سندھ میں ہم سے چالیس سے زائد اور پنجاب میں ن لیگ 12 سے زائد سیٹیں چوری کر گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب یہ مل کر کہتے ہیں کہ ہم حکومت بنا رہے ہیں، اس آرٹیفیشل حکومت کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑے گا۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم تمام منتخب نمائندوں کو یکجا کرنے کے لیے رابطے میں ہیں، انتخابی نتائج نے ہمیں متحد ہونے کا پیغام دیا ہے، منتخب نمائندوں کو مخصوص سیٹیں بچانے کے لیے کسی جماعت میں شامل ہونا ہوگا، اس کیلئے ایک یا دو جماعتوں میں شامل ہوا جاسکتا ہے، بانی پی ٹی آئی جس کا کہیں گے اس میں شامل ہوجائیں گے، حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے، حکومت بنانے اور اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ بھی بانی پی ٹی آئی کریں گے۔ ہم سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ وحدت المسلمین کے ساتھ ہمارے پہلے سے تعلقات ہیں، ہمارے پاس صرف ایک آپشن نہیں ہے چار پانچ آپشن ہیں۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار وسیم قادر کی ن لیگ میں شمولیت پر ان کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز ووٹ کو عزت دو کے نعرے بلند کرتی آئی ہیں اور یہی عزت انہوں نے دی ہے، ان کی اس وقت کیا فیلنگ ہوگی جب ایک گندے انڈے کو ایک لوٹے کو اپنے ساتھ کھڑا کر رہی ہیں، اور قوم کو کیا پیغام دے رہی ہیں کہ میں ووٹ کو کیا عزت دے رہی ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو چلانے کیلئے آئندہ 6 ماہ میں 28 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ ن لیگ سے اتحاد کسی صورت ممکن نہیں ہے، انہوں نے تو مینڈیٹ پر ڈاکہ دالا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی حکومت بنی تو بہت مسائل ہوں گے، 16 ماہ میں جو ہوا اس کے نتائج سب سے سامنے ہیں۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ ’میرا یہ مؤقف ہے کہ اب ”ڈو اور ڈائے“ والا مقام آگیا ہے، ہمیں اب احتجاج کرنا چاہیے اور اسلام آباد میں دھرنا دینا چاہیے، کیونکہ یہ لامتناہی سلسلہ ہے ظلم و جبر کا، ہر چیز چوری ہو رہی ہے، انصاف چوری ہوا، حق چوری ہوا، اب الیکشن بھی یہ چوری کر رہے ہیں، یہ تو اب ریزسٹینس (مزاحمت) نہ کیا، ہم نے پروٹیسٹ (احتجاج) نہ کیا تو اس کا مطلب ہے ہر ظلم کے آگے سر خم کرنا، میں نے تو یہ تجویز دی ہے کہ ہم نے اوور آل کنٹری مارچ کرنی چاہیے اور اسلام آباد میں اور ڈی چوک میں دھرنا ہونا چاہئے۔‘

Read Comments