Aaj Logo

شائع 26 اپريل 2024 10:05pm

ملک بھر میں بارشیں، سیلابی ریلوں اور آسمانی بجلی گرنے سے 4 افراد جاں بحق

ملک کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، بارش کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی کے فیڈرز ٹرپ کرگئے جبکہ بارش سے گندم کی فصل کو بھی نقصان پہچنا جبکہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے اور آسمانی بجلی گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہوگیا۔

لاہور

لاہور کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے، بارش کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ شہر کا موسم خوشگوار ہوگیا۔

لاہور میں مال روڈ، گلبرگ، ٹاؤن شپ، جیل روڈ، گڑھی شاہو، نشتر پارک اسپورٹس کمپلیکس اور اطراف میں بھی بارش ہورہی ہے۔

اس کے علاوہ کوٹ لکھپت، ماڈل ٹاؤن، فیصل ٹاؤن اور گرین ٹاؤن میں بھی بونداباندی کا سلسلہ جاری ہے، مختلف شہروں میں بارش سے گندم کی فصل کو شدید نقصان کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں پہلی بار مصنوعی بارش برسا دی گئی، لاہور کے 10 علاقوں میں بوندا باری

بارش کے باعث نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا آپشنل ٹریننگ سیشن منسوخ کردیا گیا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی کہ نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کوجلد از جلد ممکن بنائیں، شہری احتیاط کریں بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ 29 اپریل تک جاری رہنے کے امکانات ہیں۔

دیپالپور میں بھی بارش سے شہریوں کے مرجھائے چہروں کھل اٹھے مگر کاشتکاروں کی گندم کی تیارفصل کوبھی نقصان کا اندیشہ ہے۔

کامونکی شہر اور گردو نواح میں بارش سے متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے جبکہ بارش کے باعث نشیبی علاق زیرآب آگئے۔

بھکر میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تاہم آسمانی بجلی گرنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

مرید کے اور رائے ونڈ میں بھی موسلادھارسے بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا جبکہ شرقپور شریف میں بارش اور ژالہ باری سے موسم تو خوشگوار ہوا مگر گندم کی فصل کو نقصان بھی پہنچا۔

روجھان میں بھی بارش شروع ہوتے ہی شہر بھر سے بجلی گُل ہوگئی، اس کے علاوہ علی پور اور شیخوپورہ میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش جاری ہے جبکہ پاراچنار سمیت ضلع کرم کے مختلف علاقوں میں بارش سے موسم سرد ہوگیا۔

بلوچستان میں بارشوں سے مزید 3 اموات، تعداد 21 ہوگئی

دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، بارشوں کے باعث ندی نالوں کے سیلابی ریلوں میں بہہ کر آج مزید 3 افراد جاں بحق ہوگئے، 12 اپریل سے اب تک بارشوں کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 21 تک جاپہنچی۔

چاغی اور دالبندین میں طوفانی ہواؤں اور مٹی کے گردوغبار سے معمولات زندگی متاثر

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں نے تباہی مچا دی جس سے آج بھی سیلابی ریلوں میں مزید 3 افراد بہہ کر جان کی بازی ہار گئے۔

جبکہ صحبت پور میں آسمانی بجلی گرنے سے 18 بھیڑیں ہلاک ہو گئیں، آج کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ ، مسلم باغ ، موسی خیل، مستونگ، قلات، دکی، ڈیرہ بگٹی، تفتان، واشک، کوہلو اور لورالائی میں موسلا دھار بارشیں ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

تفتان میں 50 کچے مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ نوشکی میں زنگی ناوڑ جھیل میں شگاف پڑنے سے پانی کا اخراج شروع ہوگیا۔

بارشوں کے باعث صوبہ بھر میں ہونے والے نقصانات کی رپورٹ پی ڈی ایم اے نے جاری کردی جس میں اب تک 21 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 7 مرد، 7 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں جبکہ دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں 14 افراد زخمی ہوئے اور 115 سے زائد جانور سیلابوں ریلوں میں بہہ کر ہلاک ہوئے۔

بارشوں کے باعث جانی نقصانات تفتان چمن اور ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر اضلاع میں ہوئے۔

دریائے کابل کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال متوقع

ادھر فیڈرل فلڈ کمیشن نے دریائے کابل کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال کا امکان ظاہر کردیا۔

دوسری جانب ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے کابل کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال متوقع ہے، 27 تا 30 اپریل کے دوران سیلابی صورتحال کے باعث نوشہرہ اور چارسدہ کے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پی ڈی ایم اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔

ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہےکہ متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرے سے دوچار علاقوں کی نشاندہی اور بروقت ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے، متعلقہ ادارے سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں میں ضروری مشینری و عملہ کی بر وقت دستیابی یقینی بنائیں۔

این ڈی ایم اے نے ہدایات کی کہ ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر شہری بہاؤ تیز ہونے کی صورت میں ندی نالوں کو پار کرنے سے گریز کریں۔

دریا سے منسلک علاقوں کے مکین مقامی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں۔ عوام موسمی حالات سے باخبر رہیں، نشیبی علاقوں کے مکین ندی نالوں میں طغیانی کے پیش نظر محتاط رہیں۔

Read Comments