شائع 01 جنوری 2026 08:44am

نئی امیدوں کے ساتھ سال 2026 کا سورج طلوع، پاکستان سمیت دنیا بھر میں جشن

نئی امنگوں، امیدوں اور خوابوں کے ساتھ سال 2026 کا پہلا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوا۔ ملک کے مختلف شہروں میں شہریوں نے نئے سال کے پہلے سورج کے دیدار کو ایک خوشگوار اور یادگار لمحہ قرار دیا۔ کراچی، گوادر اور دیگر ساحلی علاقوں کے علاوہ پارکوں اور کھلے مقامات پر لوگوں کی بڑی تعداد نے طلوع آفتاب کا نظارہ کیا اور اس لمحے کو تصاویر اور ویڈیوز کی صورت میں محفوظ کیا۔

نئے سال کے آغاز پر ملک بھر کی مساجد میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا، جہاں علما کرام نے پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعائیں کیں۔

دعاؤں میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ملک کو درپیش معاشی اور سماجی مشکلات کا خاتمہ فرمائے اور قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔ کئی مساجد میں فجر کے بعد اجتماعی دعائیں ہوئیں جن میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ سال 2026 سے بہت سی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد اس بات پر پُرامید نظر آئی کہ نیا سال ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری، روزگار کے مواقع اور مجموعی طور پر زندگی میں سکون لے کر آئے گا۔

کئی افراد نے کہا کہ وہ مثبت سوچ اور محنت کے ساتھ نئے سال کا آغاز کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ گزشتہ برس ادھورے رہ جانے والے خواب اس سال پورے ہوں گے۔

سال 2026 کے آغاز پر رات بارہ بجتے ہی ملک بھر میں جشن اور آتش بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور آتش بازی کے ذریعے نئے سال کا استقبال کیا۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے ہلہ گلہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر خاندانوں نے بھی محدود پیمانے پر جشن منایا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارک ویو سٹی اور سی ڈی اے کے زیر انتظام شاہین چوک میں آتش بازی کے خصوصی انتظامات کیے گئے، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کراچی میں گورنر ہاؤس میں بھی نئے سال کی آمد پر آتش بازی کا اہتمام کیا گیا، جس میں ہزاروں شہری شریک ہوئے۔

سندھ کے شہر سکھر میں تاریخی لینس ڈاؤن پل کو برقی قمقموں سے سجایا گیا اور آتش بازی کی گئی، جس نے پل اور دریائے سندھ کے اطراف ایک دلکش منظر پیش کیا۔

لاہور میں لبرٹی چوک اور پشاور کے رنگ روڈ پر بھی نئے سال کی آمد پر روشنیوں اور آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔

دنیا کے دیگر ممالک میں بھی وقت کے فرق کے باعث سال 2026 کا آغاز مختلف اوقات میں ہوا۔

دنیا میں سب سے پہلے نئے سال کا آغاز بحرالکاہل میں واقع جزیرہ ملک کریباتی سے ہوا، جہاں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے سال 2026 شروع ہوا۔

اس کے بعد نیوزی لینڈ میں شام چار بجے اور آسٹریلیا میں شام چھ بجے پاکستانی وقت کے مطابق نئے سال کا استقبال شاندار آتش بازی سے کیا گیا۔

ایشیا کے کئی ممالک میں بھی نئے سال کے موقع پر تقریبات منعقد ہوئیں۔

جاپان میں آتش بازی کے ساتھ ساتھ روایتی رسم جویا نو کانے ادا کی گئی، جس کے تحت بدھ مت کے مندروں میں بڑی گھنٹیاں 108 بار بجائی گئیں۔

جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور سنگاپور میں بھی شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد نے تقریبات میں شرکت کی۔

بنکاک میں دریائے چاو فرایا کے اطراف اور سنگاپور میں مرینا بے کے مقام پر آتش بازی نے آسمان کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجا دیا۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں عظیم دیوار چین کے جویونگ گوان حصے کو خصوصی روشنیوں اور لائٹ بیمز سے منور کیا گیا، جسے دیکھنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔

یورپ اور مشرق وسطیٰ میں نئے سال کا آغاز نسبتاً بعد میں ہوا، جبکہ امریکا میں سب سے آخر میں سال نو داخل ہوتا ہے۔

نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں مشہور کرسٹل بال نصب کی گئی، جہاں ہر سال کی طرح لاکھوں افراد نے سال نو کے جشن میں شرکت کی۔

ماہرین کے مطابق دنیا میں نئے سال کے آغاز کے اوقات میں فرق عالمی ٹائم زون نظام کی وجہ سے ہے، جس کے تحت زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اسی نظام کے باعث دنیا کے مختلف ممالک اپنے اپنے وقت، ثقافت اور روایات کے مطابق نئے سال کا استقبال کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر سال 2026 کا آغاز پاکستان سمیت دنیا بھر میں امید، روشنی اور بہتر مستقبل کی توقعات کے ساتھ ہوا ہے۔

Read Comments