شائع 01 جنوری 2026 10:10am

امریکہ کو بھی پیوٹن پر ’یوکرین کے قاتلانہ حملے‘ کے ثبوت نہیں ملے

امریکی انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یا ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہ مؤقف روس کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرینی ڈرونز پیوٹن کی رہائش گاہ کی طرف بھیجے گئے تھے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے حکام نے اپنی خفیہ رپورٹ میں بتایا کہ سی آئی اے کی تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ یوکرین نے پیوٹن یا ان کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین کا ہدف اسی علاقے میں موجود ایک فوجی مقام تھا جو پیوٹن کی رہائش گاہ کے قریب نہیں تھا۔ سی آئی اے نے اس معاملے پر عوامی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روسی الزام کو سنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک آرٹیکل شیئر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے کا دعویٰ مشکوک ہے اور روس امن کی راہ میں خود رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس سے قبل سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو انٹیلی جنس رپورٹ پر بریفنگ دی تھی۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر ناراض ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ممکن ہے ایسا حملہ ہوا ہی نہ ہو۔ ان کے مطابق صدر پوتن نے فون پر انہیں بتایا تھا کہ ڈرونز نے ان کی جھیل کنارے واقع رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔

یوکرین نے پہلے بھی روس کے اندر کچھ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، مگر اس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس کا مقصد پوتن کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس اس طرح کے الزامات کو سیاسی دباؤ بڑھانے اور مذاکرات پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

روس کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے 91 یوکرینی ڈرونز کو پیوٹن کی رہائش گاہ کے قریب مار گرایا، جبکہ ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں برف میں گرا ہوا ڈرون دکھایا گیا۔ یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے طویل ملاقات کی اور امن کوششوں پر بات کی۔

روسی حکام نے کہا کہ مبینہ ڈرون واقعے کے بعد وہ مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کر سکتے ہیں اور انہوں نے اوڈیسا کے علاقے پر مزید ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے روس پر تنقید کو حالیہ دنوں میں ماسکو کے خلاف ان کا ایک مضبوط پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر بین الاقوامی ردعمل بھی سامنے آیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تشویش کا اظہار کیا، جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسے افسوسناک قرار دیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔

ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ انہوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سکیورٹی حکام سے رابطہ کرکے آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی۔

یوکرین کے سینیئر مذاکرات کار رسٹم عمروف بھی ان رابطوں میں شامل تھے۔ مذاکرات میں ممکنہ سیکیورٹی ضمانتوں اور ایسے اقدامات پر بات ہوئی جن کے ذریعے جنگ روکنے اور مستقبل میں اس کے دوبارہ شروع ہونے سے بچاؤ کی کوشش کی جا سکے۔

Read Comments