شائع 01 جنوری 2026 12:38pm

ایلون مسک کی دماغی چپ: فالج زدہ افراد جلد صرف سوچ کر ڈیوائسز چلا سکیں گے

ایلون مسک نے ٹیکنالوجی کے میدان میں جدید انقلاب کی جانب ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی ’نیورا لِنک‘ اب دماغی چپ کے ذریعے صارفین کو اپنے خیالات سے کمپیوٹر کے براہِ راست رابطے کی عملی سہولت فراہم کررہی ہے، یہ پیش رفت خصوصاً ان افراد کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو شدید معذوری یا فالج کی وجہ سے جسمانی کنٹرول سے محروم ہیں۔

نیورالنک کا بنیادی تصور ایسا برین کمپیوٹر انٹرفیس (بی سی آئی) ہے جو انسانی دماغ میں نصب ہو کر صرف خیال کے ذریعے کمپیوٹر، موبائل، وہیل چیئر یا روبوٹ جیسے آلات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت دے۔

مسک کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پرتازہ اعلان کے مطابق کمپنی 2026 میں برین چِپس کی ہائی والیوم پروڈکشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ یہ ٹیکنالوجی تجرباتی لیبز سے نکل کر زیادہ تعداد میں مریضوں تک پہنچ سکے۔

ان کے مطابق اگلے مرحلے میں سرجری کا پورا عمل اس حد تک خودکار ہو جائے گا کہ چپ امپلانٹ کروانا ایک تیز، معیاری اور نسبتاً سستا عمل بن جائے گا۔

۔

نیورالنک کی متعارف کردہ اہم تکنیکی تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اب الیکٹروڈ تھریڈز دماغ کے بیرونی حفاظتی غلاف یعنی ڈیورا، کو مکمل طور پر کاٹے بغیر اس میں سے گزر سکیں گے۔

روایتی نیورو سرجری میں اکثر ڈیورا کو جزوی یا مکمل ہٹایا جاتا ہے، جو انفیکشن، خون بہنے اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔ نیورا لِنک کا دعویٰ ہے کہ ڈیورا برقرار رکھتے ہوئے اس میں سے باریک الیکٹروڈ گزارنا سرجری کو آسان اور ممکنہ طور پر زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے۔

یہ تبدیلی مستقبل میں اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ دماغی امپلانٹس کسی بڑے آپریشن کے بجائے انتہائی باریک، مشینی طور پر کنٹرولڈ انسرشن تک محدود ہو جائیں، جہاں انسانی ہاتھ کا عمل دخل کم سے کم ہو۔

2025 میں مریضوں کے تجربات بتاتے ہیں کہ نیورا لِنک کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن (FDA) سے اسپیچ ریسٹوریشن ٹیکنالوجی کے لیے بریک تھرو ڈیوائس کا درجہ ملا، جو بولنے کی شدید معذوری کے شکار افراد کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کی جا رہی ہے۔

کمپنی نے سیریز ای فنڈنگ راؤنڈ میں 650 ملین ڈالر جمع کیے اور اس موقع پر اس کی ویلیوئیشن تقریباً 9 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور نیوروٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کا اندازہ ہوتا ہے۔

کلینیکل سطح پر نیورالنک نے بتایا کہ 2025 تک 12 ایسے افراد میں امپلانٹس لگائے جا چکے ہیں جو شدید فالج یا موٹر معذوری کا شکار تھے، اور انہوں نے محض خیال کے ذریعے ’کمپیوٹر کرسر‘ ہلانا، ویڈیو گیمز کھیلنا، انٹرنیٹ براؤز کرنا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا ممکن بنایا۔

ستمبر 2025 تک، نیورالنک نے 12 افراد میں چپس نصب کرنے کی تصدیق کی تھی، حالانکہ کچھ رپورٹس میں یہ تعداد 20 کے قریب بتائی گئی ہے۔ ان صارفین نے اپنی سوچ سے، جو شدید فالج یا معذوری کا شکار تھے، ’کمپیوٹر کرسر‘ ہلانا، ویڈیو گیمز کھیلنا، انٹرنیٹ براؤز کرنا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا ممکن بنایا۔

۔

برطانیہ میں ایک اسٹڈی میں شریک شخص نے سرجری کے چند ہی گھنٹوں بعد اپنی سوچ سے کمپیوٹر کنٹرول کر کے یہ دکھایا کہ انٹرفیس دماغ کے ساتھ کس قدر تیزی سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے، جب کہ کینیڈا میں پہلی غیر امریکی سرجریز بھی انجام دی گئیں، جو ٹیکنالوجی کے بین الاقوامی پھیلاؤ کا ابتدائی اشارہ ہیں۔

نیورالنک نے ایک جدید سرجیکل روبوٹ بھی متعارف کرایا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ الیکٹروڈ تھریڈز کو فی تھریڈ تقریباً ڈیڑھ سیکنڈ میں داخل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور پہلے کی نسبت زیادہ گہرائی تک انسرشن ممکن بناتا ہے۔

یہ سسٹم مختلف انسانی دماغی ساختوں کے ساتھ زیادہ وسیع مطابقت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ دنیا کے مختلف خطوں اور نسلوں میں موجود ساختی فرق کے باوجود امپلانٹ کا عمل معیاری اور محفوظ رہے۔

اگر نیورالنک واقعی اپنی منصوبہ بندی کے مطابق ہائی والیوم پروڈکشن اور تقریباً مکمل خودکار سرجری تک پہنچ جاتی ہے تو دماغی امپلانٹس محض چند تجرباتی کیسز سے نکل کر ایک باقاعدہ طبی آپشن بن سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت نہ صرف نیورالنک کے وژن کو حقیقت کا رنگ دے رہی ہے بلکہ دماغی چپ کی دنیا میں ایک نیا دور بھی شروع کر رہی ہے، جہاں جلد ہی لوگ اپنے خیالات سے آسانی سے ڈیوائسز چلا سکیں گے۔

Read Comments