شائع 01 جنوری 2026 10:53pm

پی ٹی آئی میں اکثریت حکومت سے مذاکرات چاہتی ہے، بس عمران خان نہیں چاہتے: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف سے حکومت کے مذاکرات پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں اکثریت مذاکرات چاہتی ہے، عمران خان حکومت سے بالکل مذاکرات نہیں چاہتے، پی ٹی آئی عمران خان کے مؤقف کے بغیر مذاکرات نہیں کر سکتی، ان کا ایک ہی مؤقف ہے اسٹیٹ موومنٹ چلائی جائے، وہ 8 فروری کو پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں۔

جمعرات کو اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان حکومت سے بالکل مذاکرات نہیں چاہتے، پی ٹی آئی عمران خان کے مؤقف کے بغیر مذاکرات نہیں کرسکتی، پی ٹی آئی میں اکثریت مذاکرات چاہتی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 2 سے 3 مرتبہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی، عمران خان کا آج بھی ایک ہی مؤقف ہے کہ اسٹیٹ موومنٹ چلائی جائے، وہ چاہتے ہیں کہ 8 فروری کو پہیہ جام کیا جائے، محمود خان اچکزئی کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا، بلیک میل کرکے، پریشرائز کرکے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے دفاعی اداروں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے، ایسی صورت حال میں کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، پی ٹی آئی سے مذاکرات میں اسٹیبلشمنٹ ان بورڈ ہوں گے۔

ن لیگی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ گالم گلوچ کرنے والے لوگوں کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھنا مشکل ہے، پی ٹی آئی کا 8 فروری کا جلسہ ناکام ہوگا، گالم گولچ بند کریں تو مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ کی 5 بڑوں کو اعتماد سازی کے لیے مل بیٹھنے کی تجویز

قبل ازیں جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثنا اللہ نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے 5 بڑوں کو اعتماد سازی کے لیے مل بیٹھنے کی ضرورت ہے، ان 5 بڑوں میں صدرمملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، بانی پی ٹی آئی عمران خان شامل ہیں، اس تجویز میں پیپلزپارٹی بھی ہمارے ساتھ ہے، پی ٹی آئی اداروں کی قیادت کی کردار کشی بند کرے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا راستہ نکل سکتا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اداروں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے ان کو بند کیا جانا چاہیے، پی ٹی آئی قیادت یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتی کہ ان اکاؤنٹس پر ان کا کوئی کنٹرول اور تعلق نہیں۔

سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو ان اکاؤنٹس سے اظہار لاتعلقی اختیار کرکے بند کرنا چاہیئے، اگر ان اکاؤنٹس سے صرف پروپیگنڈا ہی کرنا ہے تو مخالف سیاسی جماعتوں، سیاستدانوں کے خلاف کریں۔

ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو انہوں نے احتجاج کی جو کال دی ہے اس پر عمل درآمد نہیں کرسکیں گے، پہیہ جام کی کال واپس لیں ورنہ 9 مئی کی طرح دھر لیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا پی ٹی آئی حق کی طرف نہیں ملک میں انارکی کی طرف سفر کررہی ہے، اگر یہی کرنا ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیسے ہوسکتی ہے، اگر ان کا خیال ہے کہ ادارے کے خلاف مہم جوئی کرنے سے کوئی دباؤ آئے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ن لیگ مستقبل میں اکثریت حاصل کرتی ہے تو اگلی قیادت بلاشبہ مریم نواز شریف کی ہوگی، اسی طرح پیپلز پارٹی کی مستقبل کی قیادت بلاول بھٹو ہے۔

Read Comments