ظہران ممدانی کا بڑا اقدام، سابق میئر کے تمام ایگزیکٹو آرڈرز منسوخ کر دیے
نیو یارک کے ڈیموکریٹک سوشلسٹ میئر ظہران ممدانی نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنے پیش رو ایرک ایڈمز کے دور کے بیشتر ایگزیکٹو آرڈرز منسوخ کر دیے۔
یہ فیصلہ حلف اٹھانے کے چند گھنٹے بعد جاری ہونے والے ایک بڑے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کیا گیا، جو ان احکامات سے متعلق ہے جو ایڈمز پر فردِ جرم عائد ہونے کے بعد جاری کیے گئے تھے۔
امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق یہ اقدام بروکلین میں جمعرات کو دستخط کیے گئے پانچ ایگزیکٹو آرڈرز میں سے ایک تھا۔ اس کے تحت 26 ستمبر 2024 کے بعد ایڈمز کی جانب سے جاری کیے گئے تمام آرڈرز منسوخ کر دیے جائیں گے۔ اسی تاریخ کو ان پر وفاقی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ممدانی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد نئی انتظامیہ کے لیے “نیا آغاز” یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایڈمز کے دور کے کچھ احکامات دوبارہ جاری کیے جا سکتے ہیں، جن میں یہ آرڈر بھی شامل ہے جس کے تحت انسدادِ یہود دشمنی کے دفتر کو برقرار رکھا گیا تھا۔ ممدانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ دن ایک نئے دور کی علامت ہے، اور اس کے لیے ماضی میں سیاست سے مایوس ہونے والے شہریوں کے خدشات کو سمجھنا ضروری ہے۔
ایرک ایڈمز نیویارک سٹی کے پہلے ایسے میئر بنے تھے جن پر عہدے کے دوران فردِ جرم عائد ہوئی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ترکی حکومت سے فنڈز حاصل کیے تاکہ مین ہیٹن میں ترک قونصل خانے کی تعمیر کو منظوری دی جا سکے۔ یہ وفاقی مقدمہ بعد میں امریکی محکمہ انصاف نے ختم کر دیا، بجائے اس کے کہ صدارتی معافی دی جاتی۔
نئی انتظامیہ کے مطابق بعض احکامات اس صورت میں بحال کیے جا سکتے ہیں اگر وہ عوامی خدمات، نظم و نسق اور کارکردگی کے لیے لازمی سمجھے گئے۔ منسوخ اور دوبارہ جاری ہونے والے احکامات کی مکمل فہرست فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔
اس کے ساتھ ہی ممدانی نے رہائش کے مسائل سے متعلق اپنے انتخابی وعدوں پر بھی پیش رفت کی۔ انہوں نے کرایہ داروں کے تحفظ کے لیے میئر کے دفتر کو دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا اور دو نئی ٹاسک فورسز بنانے کے احکامات پر دستخط کیے، جن کا مقصد شہر کی ملکیتی زمین پر رہائشی تعمیرات کی رفتار بڑھانا اور رہائش کی فراہمی میں اضافہ کرنا ہے۔