اپ ڈیٹ 02 جنوری 2026 02:56pm

ایران کے پرامن مظاہرین پر فائرنگ ہوئی تو مداخلت کریں گے: امریکہ کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں سکیورٹی فورسز نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔ انہوں نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر جاری کیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران پُرامن مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کرتا ہے تو امریکا ان کی مدد کے لیے سامنے آئے گا۔ ان کے مطابق امریکا ’’تیار ہے‘‘ اور ضرورت پڑنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ان کا یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف ہونے والے احتجاج پُرتشدد ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی اہلکار سمیت مجموعی طور پر چھ افراد جاں بحق جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق کئی شہروں میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر بھی دھاوا بولا جبکہ ہنگامہ آرائی میں ملوث 30 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

مظاہرین کی جانب سے مہنگائی، معاشی بدحالی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے مختلف علاقوں میں الرٹ ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کے پیش نظر تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جلد اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ صدر نے اشارہ دیا کہ حالیہ حالات میں بیرونی قوتیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر عدم استحکام لانا چاہتی ہیں۔

ایران میں حالیہ احتجاج اُس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کو پہلے ہی سخت معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جو امریکی پابندیوں کے بعد مزید بڑھ گیا۔ اس سے قبل 2022 میں بھی ایک بڑے احتجاجی سلسلے کے دوران کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ انتشار سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Read Comments