امریکہ میں نئے سال کی رات داعش طرز پر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام
امریکہ میں نئے سال کے موقع پر دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنایا گیا جب امریکی محکمۂ انصاف نے اعلان کیا کہ شمالی کیرولائنا کے ایک 18 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا جس پر دہشت گرد تنظیم داعش کو معاونت فراہم کرنے کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملزم کی شناخت کرسچن اسٹرڈیونٹ کے نام سے کی گئی ہے جو شمالی کیرولائنا کے علاقے منٹ ہل کا رہائشی ہے۔ حکام کے مطابق اسٹرڈیونٹ مبینہ طور پر داعش کی حمایت میں ایک گروسری اسٹور اور ایک فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ کو نشانہ بنانے کے لیے چاقو اور ہتھوڑے سے حملے کی منصوبہ بندی کے آخری مراحل تک پہنچ چکا تھا۔ 31 دسمبر 2025 کو امریکی وفاقی عدالت میں ملزم کو پیش کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس گرفتاری کے باعث ایک بڑے حملے کو روک دیا گیا ہے۔ امریکہ کی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اس کامیاب تعاون نے نئے سال کے موقع کوایک ہولناک دہشت گرد حملے سے امریکیوں کی جانیں بچالیں۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی دہشتگردانہ منصوبہ بندی کرنے والے کے خلاف قانون سخت کارروائی کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹرڈیونٹ نے داعش سے وفاداری کا عہد کیا اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے حملے کے دوران شہادت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
شمالی کیرولائنا کے مغربی ضلع کے امریکی اٹارنی رس فرگوسن نے کہا کہ یہ نوجوان جہاد کی تیاری کر رہا تھا اور اگر یہ منصوبہ ناکام نہ بنایا جاتا تو بے گناہ افراد کے مارے جانے کا قوی امکان تھا۔
دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے مطابق اسٹرڈیونٹ نے دسمبر میں آن لائن ایسے خفیہ ایجنٹس سے رابطہ کیا جو خود کو داعش کے حامی ظاہر کر رہے تھے۔
اس دوران اسٹرڈیونٹ نے مبینہ طور پر ہتھیاروں کی تصاویر شیئر کیں اور مخصوص اہداف پر گفتگو کی۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ یہ کیس بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے والے قانون سے نہیں بچ سکتے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق اسٹرڈیونٹ نے 19 دسمبر کو داعش کے ساتھ وفاداری کا پیغام بھیجا تھا اور وہ تقریباً ایک سال سے اس حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
29 دسمبر کو اس کے گھر کی تلاشی کے دوران ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریریں برآمد ہوئیں جن کا عنوان نیو ایئر اٹیک 2026 تھا۔ ان نوٹس میں 20 تک افراد کو چھرا گھونپنے اور اس کے بعد پہنچنے والے پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کا منصوبہ درج تھا۔ حکام نے اس کے بیڈروم سے چاقو، ہتھوڑے، ٹیکٹیکل دستانے اور ایک واسکٹ بھی ضبط کی۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان اے آئزنبرگ نے کہا کہ یہ پیغامات زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے اور خوف پھیلانے کے ارادے کو ظاہر کرتے ہیں، اور انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف کی کہ انہوں نے اس خطرے کو عملی جامہ پہننے سے پہلے ہی ختم کر دیا۔
حکام کے مطابق اسٹرڈیونٹ پہلی بار 2022 میں ایف بی آئی کے ریڈار میں آیا تھا، جب وہ نابالغ تھا اور اس کا رابطہ بیرونِ ملک داعش کے ایک فرد سے ہوا تھا۔ اس وقت اس پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی اور اسے نفسیاتی علاج فراہم کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسٹرڈیونٹ اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور اس نے ابھی تک اپنے خلاف الزامات پر کوئی جواب جمع نہیں کرایا۔ اگر اسے مجرم قرار دیا گیا تو اسے 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔