بنگلہ دیش میں ایک اور بی این پی لیڈر کو گولی مار دی گئی
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں منگل کی شب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے سابق بی این پی رہنما اور سویچھاسےبک دل کے سابق رہنما عزیز الرحمٰن مُصبر ہلاک ہو گئے۔ پولیس اور جماعتی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ آئندہ انتخابات سے قبل ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کی تازہ مثال ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بنگلہ دیش میں انتخابات کے لیے ضابطۂ اخلاق نافذ ہے اور 12 فروری کو ووٹنگ ہونی ہے۔
چند روز قبل بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے یوتھ ونگ کے ایک رہنما کو ایک الگ واقعے میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا، جبکہ اس سے بھی قبل 12 دسمبر کو بنگلادیشی نوجوان رہنما عثمان ہادی کو بھی فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق عزیز الرحمٰن مُصبر جو اس سے قبل ڈھاکا میٹروپولیٹن نارتھ سویچھاسےبک دل کے جنرل سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے، منگل کی شام تقریباً 8 بج کر 30 منٹ (مقامی وقت) ڈھاکا کے کاروان بازار علاقے میں حملے کا نشانہ بنے۔ سویچھاسےبک دل، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی رضاکار تنظیم ہے۔
پولیس کے مطابق یہ حملہ سپر اسٹار ہوٹل کے قریب پیش آیا، جو بشندھارا سٹی شاپنگ کمپلیکس کے نزدیک واقع ہے، اور یہ علاقہ وسطی ڈھاکا کا ایک گنجان تجارتی مرکز بھی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں نے قریب سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئے۔
فائرنگ کے اس واقعے میں ایک اور شخص بھی زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق زخمی شخص کی حالت مستحکم ہے۔
ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے تیجگاؤں ڈویژن کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فضلُل کریم نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ کاروان بازار کی ایک گلی میں دو افراد کو گولیاں ماری گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مُصبر کو پیٹ میں گولی لگی تھی، بعد ازاں وہ ایک نجی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق دونوں زخمیوں کو ابتدا میں بی آر بی اسپتال منتقل کیا گیا، جس کے بعد ایک شخص کو مزید علاج کے لیے ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے متعدد فائر کیے اور اس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔
سیکیورٹی حکام نے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم بدھ کی صبح تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔