نوجوان شوٹر سے جنسی زیادتی، بھارت میں نیشنل کوچ معطل
بھارت کے قومی شوٹنگ کوچ انکوش بھاردواج کو ایک 17 سالہ قومی سطح کی خاتون شوٹر کی جانب سے جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔
نیشنل رائفل ایسوسی ایشن آف انڈیا (این آر اے آئی) نے الزامات سامنے آنے کے فوراً بعد انہیں تمام سرکاری ذمہ داریوں سے ہٹا دیا۔
متاثرہ کھلاڑی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ واقعہ فرید آباد کے علاقے سورج کنڈ کے ایک ہوٹل میں پیش آیا، جہاں شوٹنگ نیشنل چیمپئن شپ کے دوران قیام کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ مقابلے دہلی کے ڈاکٹر کرنی سنگھ شوٹنگ رینج میں منعقد ہو رہے تھے۔
خاتون کھلاڑی کے اہلِ خانہ کی جانب سے باضابطہ شکایت درج کروائے جانے کے بعد ہریانہ پولیس نے انکوش بھاردواج کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
این آر اے آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الزامات کی نوعیت نہایت سنجیدہ ہے، اسی لیے تفتیش مکمل ہونے تک کوچ کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تحقیقات غیر جانبدار انداز میں آگے بڑھ سکیں۔
انکوش بھاردواج کا تعلق ہریانہ کے شہر امبالہ سے ہے۔ انہوں نے اپنے شوٹنگ کیریئر کا آغاز 2005 میں نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) کے ایک کیمپ سے کیا۔
واقعے سے قبل انکوش بھاردواج قومی سطح پر پسٹل شوٹنگ کے کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ پنجاب کے شہر موہالی میں سالوو شوٹنگ رینج بھی چلاتے ہیں، جہاں منتخب شوٹرز کو نجی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
انکوش بھاردواج کی اہلیہ انجم مودگل خود ایک نامور شوٹر ہیں اور دو مرتبہ اولمپکس میں بھارت کی نمائندگی کر چکی ہیں۔
متاثرہ 17 سالہ کھلاڑی کی والدہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کے علاوہ ایک اور خاتون شوٹر کو بھی اسی قسم کے رویے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس حوالے سے تفتیش جاری ہے اور حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔