کالعدم بلوچ یکجہتی کمیٹی تاوان کا پیسہ طلبہ کے ذریعے منتقل کر رہی ہے: ڈی آئی جی
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران ایک دہشتگرد ساجد احمد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشتگرد ساجد احمد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے اور یونیورسٹی آف تربت میں تدریسی فرائض بھی انجام دے چکا ہے۔
کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعزاز گورایہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے 730 آپریشنز کیے گئے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ایک نیا خصوصی ادارہ قائم کیا گیا ہے، جس کی شاخیں پورے صوبے میں بنائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں پولیس کی عملداری قائم ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اس موقع پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم آپریشن کے دوران دہشت گرد ساجد احمد کو گرفتار کیا۔ گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے بھاری اور جدید اسلحہ برآمد ہوا، جو وہ پنجگور سے تربت منتقل کر رہا تھا۔
ڈی آئی جی کے مطابق ساجد احمد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے اور یونیورسٹی آف تربت میں تدریسی فرائض بھی انجام دے چکا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کالعدم تنظیموں کا مواد پھیلانے میں بھی سرگرم تھا۔
ڈی آئی جی اعزاز گورایہ کے مطابق ساجد احمد کی بھابھی بھی کالعدم بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سی ٹی ڈی نے کارروائیوں کے دوران مزید تین دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں خاران کا رہائشی 18 سالہ سرفراز، جہانزیب مہربان اور بیزل شامل ہیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق جہانزیب مہربان بیساک بروہی کا کارکن ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ بی وائے سی تاوان کی رقم طلبہ کے ذریعے منتقل کروا رہی ہے، جبکہ دہشت گردی میں ملوث طلبہ کو بحالی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں شدت پسندی سے دور رکھا جا سکے۔
حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی۔