امریکا برسوں تک وینزویلا کا انتظام سنبھالے رکھے گا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا پر امریکا کی نگرانی اور کنٹرول طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے. اس حوالے سے حتمی مدت کا تعین کرنا قبل اَز وقت ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھاتا رہے گا اور اپنے مفادات کے مطابق وینزویلا کی تعمیرِ نو میں کردار ادا کرے گا۔
بدھ کی شام نیویارک ٹائمز کو دیے گئے طویل انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکا برسوں تک وینزویلا کا انتظام سنبھالے رکھے گا اور اس کے تیل کے ذخائر سے تیل حاصل کرتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو جو کچھ ضروری محسوس ہوتا ہے، سابق صدر نکولس مادورو کے قریبی ساتھیوں پر مشتمل وینزویلا کی عبوری حکومت اسے وہ سب کچھ دے رہی ہے۔
صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ امریکا کب تک جنوبی امریکی ملک پر براہ راست نگرانی برقرار رکھے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو وقت ہی بتائے گا‘۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ وینزویلا کے ساحل کے قریب امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے ساتھ فوجی کارروائی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم وینزویلا کی تیل کی صنعت کو منافع بخش انداز میں دوبارہ تعمیر کریں گے۔ امریکی کمپنیوں کی مدد سے تیل استعمال اور برآمد کیا جائے گا اور اس سے حاصل رقم دونوں ممالک کی بھلائی کے لیے استعمال ہوگی۔‘
صدر ٹرمپ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی حکام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ امریکا وینزویلا کے تیل کی فروخت پر مؤثر طور پر غیر معینہ مدت تک کنٹرول سنبھالنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی کانگریس کے ارکان کو دی گئی بریفنگ کے مطابق یہ اقدام تین مراحل پر مشتمل منصوبے کا حصہ ہے۔ جہاں ری پبلکن اراکینِ کانگریس نے بڑی حد تک انتظامیہ کے اقدامات کی حمایت کی ہے وہیں ڈیموکریٹس نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ امریکا واضح قانونی اختیار کے بغیر ایک طویل بین الاقوامی مداخلت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا کتنے عرصے تک وینزویلا پر سیاسی بالادستی برقرار رکھے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ مدت تین ماہ، چھ ماہ، ایک سال یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے؟، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میں کہوں گا کہ اس سے کہیں زیادہ۔‘
اس انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کی، جن میں منی ایپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) سے متعلق فائرنگ کا واقعہ، امریکا کی امیگریشن پالیسی، روس یوکرین جنگ، گرین لینڈ اور نیٹو کے معاملات سمیت وائٹ ہاؤس میں مزید تزئین و آرائش کے منصوبے بھی شامل تھے۔
امریکی اسپیشل فورسز نے ہفتے کی شب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو ان کے صدارتی محل سے ہی اغوا کے انداز میں حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا تھا۔ جس کے بعد اُنہیں بروکلین کے مشہور میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر( ایم ڈی سی) میں رکھا گیا تھا۔
نیویارک کی وفاقی عدالت میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو پیر کی صبح سخت سیکیورٹی میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت لایا گیا۔ کیس کی سماعت کے دوران مادورو نے عدالت میں خود پر لگے تمام الزامات سے انکار کیا تھا۔
اُدھر وینزویلا میں سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے باضابطہ طور پر ملک کی قیادت سنبھال لی ہے اور انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں امریکی کارروائی کی حمایت اور اس منصوبے میں شامل افراد کو تلاش کر کے گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔