اپ ڈیٹ 10 جنوری 2026 09:08pm

جے ایف 17 تھنڈر کن کن ممالک کے پاس ہے اور کون خواہش مند ہے؟

پاکستان اور چین کے ’جوائنٹ وینچر‘ جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر کی خریداری میں عالمی سطح پر دلچسپی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ مختلف ممالک کی جانب سے اس طیارے کی خریداری یا ممکنہ معاہدوں کی خبروں کے بعد حال ہی میں عراقی فضائیہ نے بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی خریداری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان کے دفاع کا بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران یہ طیارہ عالمی سطح پر ایک نمایاں برانڈ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے حال ہی میں عراق اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں ان کی مقامی دفاعی حکام اور فضائیہ کی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایئر چیف کے دورۂ عراق کے موقع پر عراقی فضائیہ نے پاکستان ایئرفورس کی عالمی معیار کی تربیت سے استفادہ کرنے اور جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

سعودی عرب میں ملاقاتوں کے دوران سعودی قیادت نے بھی ملٹی ڈومین آپریشنز کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

اسی تناظر میں بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ نے بھی گزشتہ ہفتے دورۂ پاکستان کے موقع پر جے ایف 17 بلاک تھری لڑاکا طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔ تاہم بنگلہ دیش نے تاحال کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔

پاکستان فضائیہ کے زیرِاستعمال جے ایف 17 تھنڈر نے اس وقت دوبارہ مقبولیت حاصل کی جب گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ مختصر جھڑپ میں اس طیارے نے اپنی جنگی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

ساؤتھ ایشیا جرنل کے مطابق جے ایف 17 طیاروں کو دیگر ممالک کے لڑاکا طیاروں پر اس وجہ سے بھی سبقت حاصل ہے کیوں کہ اِسے کئی مرتبہ کامیابی سے میدانِ جنگ میں آزمایا جاچکا ہے۔

پاک بھارت جھڑپ کے بعد اس طیارے کی عالمی مانگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ کئی ممالک پہلے ہی اسے اپنے دفاعی بیڑوں میں شامل کر چکے ہیں۔ اس وقت جے ایف 17 تھنڈر آذربائیجان، نائیجریا اور میانمار کی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قرض کے بدلے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی فراہمی پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم ترجمان دفترِ خارجہ نے اس معاملے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کسی بھی دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی‘۔

گزشتہ سال دسمبر میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ پاکستان نے لیبیا کے ساتھ چار ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ کیا ہے، جس میں درجن سے زائد جے ایف 17 طیاروں کی فروخت شامل ہے۔ تاہم پاکستانی فوج نے لیبیا یا سعودی عرب کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

جے ایف 17 تھنڈر کی جنگی کارکردگی

پاکستانی فضائیہ جے ایف 17 طیاروں کو مختلف عسکری آپریشنز میں کامیابی سے استعمال کرچکی ہے۔ 2014 میں آپریشنِ ضربِ عضب کے دوران اس طیارے نے افغانستان کی سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ 2017 میں پاک ایران سرحدی علاقے میں جے ایف 17 کی مدد سے ایک ڈرون (ایس یو وی) کو مار گرایا۔

فروری 2019 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران جے ایف 17 نے اپنی جنگی صلاحیت کا مظاہرہ دکھایا۔ اس طیارے نے ایک مربوط ’نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر‘ کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس کارروائی میں بھارت کا ایک طیارہ پاکستانی حدود آگرا تھا اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی۔

جنوری 2025 میں ایرانی سرحد سے پاکستان پر بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں شروع کیے گئے آپریشن ’مرگ بر سرمچار‘ میں بھی جے ایف 17 طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور زمینی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

جے ایف 17 تھنڈر کو آخری بار مئی 2025 میں پاک بھارت جنگ میں آزمایا گیا اور اس لڑائی کے دوران اس طیارے کے جدید بلاک تھری ورژن نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔

گزشتہ سال دبئی میں منعقد ہونے والے ایئر شو کے دوران بھی جے ایف 17 تھنڈر کے چرچے رہے، جہاں بھارتی فضائیہ کے افسران کی اس طیارے کے ساتھ تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

جے ایف 17 تھنڈر کی صلاحیتیں

جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جسے ’پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس کامرہ‘ اور چین کی ’چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن‘ نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس طیارے کی پیداوار 58 فیصد پاکستان جبکہ 42 فیصد چین میں کی جاتی ہے۔

یہ طیارہ فضا سے فضا، فضا سے زمین اور سمندر میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ طیارے میں بہترین جاسوسی نظام موجود ہے اور یہ جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز سے لیس ہے۔ یہ طیارہ کم وزن ہونے کے ساتھ ہر موسم میں مؤثر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور درمیانی اور کم بلندی پر پرواز کرسکتا ہے۔

پاکستان اور چین نے اس طیارے میں وقت کے ساتھ مسلسل اپگریڈیشنز کی ہیں۔ اس کا ابتدائی ورژن 2009 میں آپریشنل ہوا تھا، جبکہ جدید ترین بلاک تھری ورژن 2020 میں سامنے آیا جسے 4.5 جنریشن کے لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جے ایف 17 تھنڈر کے ’بلاک تھری ورژن‘ میں ایکٹیو الیکٹرانکلی اسکینڈ ارے (اے ای ایس اے) ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ یہ ریڈار نہ صرف دشمن کے طیاروں کو طویل فاصلے سے ڈھونڈنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ بیک وقت کئی اہداف کو ٹریک کر کے ان پر نشانہ بھی لگا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق 4.5 جنریشن کے لڑاکا طیارے اگر دشمن کے ریڈار زون میں داخل ہوں تو انہیں ٹریک کیا جا سکتا ہے، تاہم جے ایف 17 اپنی ’الیکٹرانک جیمنگ‘ صلاحیتوں کے ذریعے سگنلز کو جام کرنے یا طویل فاصلے کے میزائلوں سے حملہ کر کے واپسی کا راستہ بنا سکتا ہے۔

جے ایف 17 تھنڈر دس ہزار پاؤنڈز سے زائد جنگی ہتھیار (پے لوڈ) اٹھا کر اڑنے کی صلاحیت سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ یہ طیارہ ’ہیلمٹ ماونٹڈ ڈسپلے‘ کی مدد سے پائلٹ اپنی نظروں کے اشارے سے ہدف کو لاک کر سکتا ہے۔

پاک چین پارٹنر شپ

پاکستان اور چین کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر کی مشترکہ تیاری (جوائنٹ وینچر) کا باقاعدہ معاہدہ 1999 میں طے پایا تھا۔ اس طیارے نے اپنی پہلی پرواز 25 اگست 2003 کو چین میں کی جبکہ یہ طیارہ 2007 میں پہلی بار باقاعدہ طور پاکستان ایئرفورس کے فضائی بیڑے کا حصہ بنا۔

مارچ 2007 میں پہلے دو طیارے چین سے پاکستان پہنچے تھے، جنہیں 23 مارچ کی یومِ پاکستان پریڈ میں حصہ لیا تھا۔

جے ایف 17 خرینے والے ممالک

میانمار پہلا ملک تھا جس نے 2015 میں پاکستان کو جے ایف 17 طیاروں کا آرڈر دیا تھا اور تقریباً 7 طیارے حاصل کرچکا ہے۔ میانمار نے طیاروں کی پہلی کھیپ 2018 میں حاصل کی تھی۔ نائیجیریا نے 2016 میں ان طیاروں کی خریداری کی دلچسپی ظاہر کی۔ 2021 میں نائیجیریا کو 3 طیاروں کی پہلی کھیپ فراہم کی گئی جو اس وقت فضائی بیڑے میں شامل ہیں۔

آذربائیجان نے فروری 2024 میں پاکستان کے ساتھ جے ایف تھنڈر 17 طیاروں کے حصول کا معاہدہ کیا تھا۔

ستمبر 2024 میں پہلا طیارہ آذربائیجان کے حوالے کیا گیا جبکہ نومبر 2025 میں بلاک تھری کے مزید پانچ طیارے آذربائیجان کے فضائی بیڑے میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ آذربائیجان نے نومبر میں اپنی یومِ فتح کی پریڈ میں پہلی بار جے ایف 17 طیاروں کو عوام کے سامنے پیش کیا جس کے بعد وہ اس طیارے کا تیسرا غیر ملکی آپریٹر بن چکا ہے۔

گزشتہ برس دبئی ایئر شو کے دوران پاکستانی فوج نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ایک دوست ملک کے ساتھ جے ایف 17 کی خریداری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں تاہم خریدار ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

اس طیارے کے حصول کے خواہش مند ممالک میں سوڈان کا نام بھی سامنے آرہا ہے تاہم پاکستان یا سوڈان کی جانب سے سرکاری طور پر ایسے کسی معاہدے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

Read Comments