اپ ڈیٹ 11 جنوری 2026 10:28am

ایران میں پاسداران انقلاب کو مظاہرین کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری مل گئی

ایران میں حالیہ احتجاج میں کم از کم 50 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے درمیان 15 اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌اِی نے پاسداران انقلاب کو مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

دی ٹیلی گراف کے مطابق 28 دسمبر سے ایران میں ملک گیراحتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے زیادہ ترگولیوں کا نشانہ بنے، جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے 15 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔ غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد بتائی گئی ہے، لیکن انٹرنیٹ بندش کی وجہ سے اس کی تصدیق ممکن نہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ اِی نے ملک کی سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن اور سیکیورٹی کے مکمل کنٹرول کی ذمہ داری سونپی ہے۔ حکام نے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں، جس میں گرفتاریوں کی تعداد میں اضافہ اور براہِ راست فائر کا استعمال شامل ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ احتجاج دو ہفتے قبل تہران کے گرینڈ بازار میں کرنسی بحران کے خلاف تاجر ہڑتال سے شروع ہوئے تھے اور اب یہ ملک کے 31 صوبوں کے 340 سے زائد مقامات تک پھیل چکے ہیں۔

ایرانی عوام نے رہبرِ اعلٰی کے گھر پر رہنے کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑے شہروں کی سڑکوں پر نکل کر ”مرگ بر دیكتا تور“ کے نعرے لگائے۔ سوشل میڈیا پر وڈیوز میں مظاہرین تہران کے شمالی علاقے پوناك میں سڑکوں پر آگ کے گرد رقص کرتے اور سادات آباد میں برتن بجا کر ”مرگ بر خامنہ‌اِی“ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

امن و انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور نوبیل انعام یافتہ شیرین عبادی نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے دوران حکومت مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کر سکتی ہے۔

اہم ہلاکتوں میں کرمان شاہ صوبے کے دو بھائی رسول اور رضا کادیوریان شامل ہیں، جو 3 جنوری کو احتجاج کے دوران مارے گئے۔ رضا 20 سال اور رسول 17 سال کے تھے۔ ایلام کے مالک شاہی میں پانچ مظاہرین اس وقت ہلاک ہوئے جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار دو منزلہ عمارت کی چھت پر چڑھ کر نیچے موجود مظاہرین پر فائرنگ کر رہے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی رات ایران کو مظاہرین پر تشدد بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ وہ فائرنگ شروع نہ کریں، ورنہ ہم بھی فائرنگ شروع کریں گے۔ امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے بھی کہا کہ امریکا ایران کو مظاہرین کے خلاف تشدد کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے گا اور بہادر ایرانی عوام کی حمایت کرتا ہے۔

ایران کی فوج نے امریکی اور اسرائیلی اقدامات کو بے امنی کے پیچھے قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج خامنہ‌اِی کے احکامات کے تحت ”ملکی مفادات، اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کی حفاظت“ کرے گی اور کسی بھی سازش کا سخت مقابلہ کرے گی۔

Read Comments