شائع 11 جنوری 2026 10:40am

ٹرمپ کا ایران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم تاحال کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کے تناظر میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔

بریفنگ میں شامل آپشنز میں تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے ہیں، تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر نے ابھی تک کسی حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اسی پس منظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے نو اور دس جنوری کے درمیان متعدد سیکیورٹی اجلاس بھی کیے، تاہم اسرائیلی سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق فی الحال ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں، البتہ دفاعی تیاریوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

ایران میں احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر سے جاری ہیں، جن کی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی بتائی جا رہی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مختلف شہروں میں مظاہرے اور بدامنی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

تاہم چینی میڈیا گروپ کے تہران میں موجود نمائندے کے مطابق ہفتے کی رات دارالحکومت میں مجموعی طور پر صورتحال پُرسکون رہی اور اہم علاقوں میں کسی بڑے احتجاج کی اطلاع نہیں ملی۔

رپورٹس کے مطابق تہران میں اجتماع کی کوشش کرنے والے تقریباً 370 افراد کو منتشر کر دیا گیا۔

ایران میں ان دنوں انٹرنیٹ سروس میں بھی تعطل دیکھا جا رہا ہے۔ ہفتے کی سہ پہر تک تہران کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ محدود رہا، تاہم مقامی باشندے ملکی خبروں کی ویب سائٹس اور ویڈیو پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر رہے تھے۔

خوراک کی ترسیل اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سروسز معمول کے مطابق کام کرتی رہیں، ٹریفک کی صورتحال مستحکم رہی اور بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں بھی کوئی بڑی کمی رپورٹ نہیں ہوئی۔

ایرانی قیادت نے حالیہ صورتحال میں قومی اتحاد پر زور دیا ہے۔

ہفتے کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اعلیٰ عسکری حکام اور اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے الگ الگ بیانات میں عوام سے اتحاد برقرار رکھنے اور قومی مفادات کے دفاع کی اپیل کی۔

صدر پزشکیان نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں تنازعات اور عدم استحکام کو بڑھانا چاہتے ہیں اور اسلامی ممالک کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنے ملک کی حمایت کریں گے۔

اسی روز ایک اور اجلاس میں صدر پزشکیان نے بتایا کہ حکومت عوام کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے کرپشن، رشوت اور ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات تیز کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں بیرونی معاشی دباؤ اور اندرونی مسائل دونوں کا سامنا ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ایرانی فوج نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ، اسٹریٹجک تنصیبات اور عوامی املاک کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے اور عوام سے یکجہتی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو خط لکھ کر امریکا پر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔

ان کے مطابق یہ مداخلت دھمکیوں، اشتعال انگیزی اور تشدد کو ہوا دینے کی کوششوں پر مشتمل ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

Read Comments