حملہ ہوا تو اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران
ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں اسرائیل اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ تمام امریکی اڈے اور جہاز ایران کے نشانے پر ہوں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار کے روز پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اس وقت امریکا اور اسرائیل جیسے دشمنوں کے خلاف بیک وقت معاشی، نفسیاتی، عسکری اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں جنگ کی حالت میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین جنگیں برسوں سے جاری ہیں تاہم عسکری جنگ کا باقاعدہ آغاز جون 2025 میں امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کے بعد ہوا، جس میں شکست کے بعد امریکا نے ایران میں بدامنی پھیلانے، عوام کے جائز مطالبات کو ہائی جیک کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے جواب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ایرانی قوم نے مسلح دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ جانے اور ان کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر باقر قالیباف کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں جس کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیشِ نظر اسرائیل کی فوج ہائی الرٹ پر ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ہفتے کے روز ٹیلی فونک رابطے کی خبریں بھی سامنے آئیں، جس میں ایران میں امریکی مداخلت کے امکان پر بات چیت کی گئی۔
اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران آزادی کے لیے شاید اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے اور امریکا اس سلسلے میں مدد کے لیے تیار ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے منسوب ایکس اکاؤنٹ سے اتوار کے روز جاری بیان میں گیا گیا ہے کہ ’دنیا جان لے کہ ایران تباہی کے بیج بونے والوں کے سامنے ڈٹا رہے گا‘۔
اسی اکاؤنٹ سے جاری ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ میں ایک ہزار سے زائد ایرانی شہری شہید ہوئے تھے۔ امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ اُن حملوں کا حکم انہوں نے ہی دیا تھا۔ یہ اعتراف ہے کہ صدر ٹرمپ کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں اور اب وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ایرانی قوم کے ساتھ ہیں‘۔
واضح رہے کہ ایران میں 28 دسمبر سے مہنگائی میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج اب پُر تشدد صورت اختیار کرچکے ہیں۔ ایرانی حکام مسلسل الزام عائد کر رہے ہیں کہ اِن مظاہروں کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔
تاہم اب حکومت مخالف مظاہرین اور حکومت کے حامی سڑکوں پر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دارالحکومت تہران اور ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی غیرتصدیق شدہ تعداد سیکڑوں میں پہنچ چکی ہے، جبکہ 2600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ملک میں 8 جنوری سے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے، جس نے مظاہرین اور میڈیا کی رسائی محدود کر دی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ملکی دفاع کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی املاک اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ ایرانی فوج نے بھی عوام اور حکومتی تنصیبات کی حفاظت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایران میں حکومت اور عوام کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ شدت اختیار کر چکا ہے اور بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اسرائیل بھی ہائی الرٹ پر ہے جس میں امریکا کی شمولیت کا بھی امکان ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم تاحال کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل جون 2025 میں بھی اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جھڑپ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے فضائی حملوں میں حصہ لیا تھا۔