ٹرمپ ایران پر حملے کے لیے تیار، امریکی فوج نے وقت مانگ لیا
ایران میں جاری پُرتشدد احتجاج اور اس کے خلاف ایرانی حکومت کی کارروائیوں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جلد حملے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، امریکی فوج نے حملے کی تیاری کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو میں کہا ہے کہ ایران ریڈ لائن عبور کرنی شروع کر چکا ہے اور امریکا فوجی آپشن سمیت تمام طاقتور آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
انہوں نے ایئرفورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق معاملہ اس وقت امریکی فوج دیکھ رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران میں انٹرنیٹ بحال کروا سکتا ہے اور اس سلسلے میں وہ ایلون مسک سے بات کریں گے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق امریکی فوج نے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے صدر ٹرمپ سے وقت مانگا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے صدر کو بتایا کہ ایران میں موجود فوجی پوزیشنز، اہداف اور ایران کے ممکنہ ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی حکمت عملی بنانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران میں ممکنہ اہداف کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے، جن میں سیکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کی فوجی اور غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ اسرائیل کے پاس بھی اپنی اہداف کی فہرست موجود ہے اور وہ اپنی فضائیہ کے ذریعے کارروائی کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل ایران کے میزائل نظام کو نقصان پہنچانے پر غور کر رہا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا رہا۔
ایران کی حکومت نے ملک میں حکومت کے خلاف مزاحمت کے دوران جان سے جانے والوں کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی انقلاب کے حق میں آج دوپہر تہران کے انقلاب اسکوائر پر ایک بڑی ریلی منعقد کی جائے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں اور بدامنی کے نتیجے میں ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی حکام ان حالات کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد کر رہے ہیں۔
ایران میں دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے دوران مختلف اداروں کی جانب سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار مختلف بتائے جا رہے ہیں۔
ایک ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک 192 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ امریکا میں قائم انسانی حقوق تنظیم ایچ آر اے این اے کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد 490 تک پہنچ چکی ہے۔
ان مظاہروں کے باعث کئی شہروں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور متعدد علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق بدامنی پر قابو پانے کے لیے ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق کچھ دہشت گرد بیرون ملک سے لائے گئے، جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی اور عوام پر حملے کیے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک بھر میں جاری مظاہروں کے دوران شرپسند عناصر کی کارروائیوں میں 109 سیکیورٹی اہلکار جان سے گئے، جبکہ زیادہ ہلاکتیں صوبہ اصفہان اور کرمانشاہ میں ہوئیں۔
ایرانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ فسادات کی شدت آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے، تاہم اٹارنی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ بدامنی میں ملوث افراد کو سخت سزاؤں، حتیٰ کہ سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوائیوں اور دہشت گرد عناصر سے دور رہیں، کیونکہ ان کے بقول دشمن ملک میں انتشار اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی مدد کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق لندن میں ایرانی سفارت خانے سے ایرانی پرچم اتارے جانے کے واقعے پر ایران نے برطانیہ کے سامنے سخت احتجاج کیا ہے اور اس معاملے پر برطانوی سفیر کو طلب کر کے وضاحت مانگی گئی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں چند روز قبل ایک بے گناہ اور نہتی خاتون کو امریکی امیگریشن اہلکار نے قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے عوام کو احتجاج نہ کرنے کی کھلی دھمکیاں دیں، اس لیے جو لوگ ایران کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں، انہیں اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران میں دہشت گردوں کی سرپرستی وہ عناصر کر رہے ہیں جنہیں ماضی میں مائیک پومپیو موساد کا ایجنٹ قرار دے چکے ہیں، اور ایران کے پاس امریکی اور اسرائیلی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
ان کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ آیا ایران میں ہونے والے مظاہرے واقعی آزادی کی تحریک ہیں، اور کیا ایسے مناظر امریکا خود اپنی سرحدوں میں برداشت کر سکے گا۔