اپ ڈیٹ 12 جنوری 2026 01:11pm

ایران کی اعلیٰ قیادت مذاکرات کے لیے تیار، اپوزیشن سے بھی رابطے میں ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت مذاکرات کے لیے تیار ہے اور ایرانی حکام سے امریکا کی ملاقات کا امکان ہے۔ تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکا اس وقت ایرانی اپوزیشن سے رابطے میں بھی ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جاری مظاہروں نے 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر لی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے ایران کے رہنماؤں کو خبردار کیا کہ اگر سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی تو امریکہ حملہ کرے گا۔

امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’ایچ آر اے این اے‘ کے مطابق اب تک 490 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں جبکہ 10 ہزار 600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایران کی حکومت نے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ فوج ایران کے معاملے پر غور کر رہی ہے اور بہت طاقتور اقدامات پر بھی غور ہو رہا ہے، جس میں ممکنہ فوجی حملے، خفیہ سائبر ہتھیاروں کا استعمال، پابندیوں میں اضافہ اور حکومت مخالف ذرائع کو آن لائن مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ منگل کو ایران کے بارے میں اپنی ٹیم کے سینئر مشیروں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں اسرائیل کے قبضہ شدہ علاقوں اور تمام امریکی فوجی اڈے اور بحری جہاز ایران کے جائز ہدف ہوں گے۔

قالیباف نے کہا کہ مظاہرین پر حملے کے لیے تیار رہنا ایران کا حق ہے۔

ایران میں جاری یہ مظاہرے 28 دسمبر سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف شروع ہوئے اور بعد میں یہ حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے۔

ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بدامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا اور ملک گیر ریلی کی کال دی تاکہ ”امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں دہشت گردانہ کارروائیوں“ کی مذمت کی جا سکے۔

ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے مظاہرین کی سرگرمیوں کی معلومات میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، جس پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایلون مسک سے بات کریں گے تاکہ اسٹار لنک سیٹلائٹ کے ذریعے ایران میں انٹرنیٹ بحال کیا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں تہران میں رات کے وقت بڑے پیمانے پر مظاہرین مارچ کرتے، تالیاں بجاتے اور نعرے لگاتے دکھائی دیے۔

سرکاری ٹی وی نے تہران کے مردہ خانے میں زمین پر پڑے متعدد باڈی بیگز دکھائے اور بتایا کہ یہ ہلاک شدگان مسلح دہشت گردوں کی کارروائیوں کے شکار ہوئے۔

ریاستی میڈیا کے مطابق ایران نے مزاحمت میں شہید ہونے والوں کے لیے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل نے بھی امریکی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان جون 2025 میں 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے مختصر طور پر ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور قطر میں امریکی اڈے پر میزائل داغے تھے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ مظاہرے ایران کی حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، مگر حکومت اب بھی مستحکم اور متحد دکھائی دیتی ہے اور کسی منظم اپوزیشن کے ظہور کا امکان کم ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ”ایران پہلی بار آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔“

اس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایران میں جاری مظاہروں اور حکومت مخالف سرگرمیوں پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف اختیارات پر غور کر رہا ہے۔

Read Comments