40 حج کرنے والے معمر ترین سعودی شہری انتقال کر گئے
سعودی عرب کے معمر ترین شہری ناصر بن ردان الراشد الوداعی 142 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے جدید سعودی عرب کے قیام اور اتحاد کا پورا عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا اور زندگی میں 40 سے زائد مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی۔
ناصر بن ردان الراشد الوداعی کی نمازِ جنازہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے ظہران الجنوب میں ادا کی گئی، جس میں تقریباً 7 ہزار افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں آبائی گاؤں الراشد میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ان کی زندگی ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط رہی۔ وہ جزیرہ نما عرب کے مختلف قبائل اور علاقوں کے یکجا ہونے اور 1932 میں مملکتِ سعودی عرب کے باقاعدہ قیام کے تاریخی گواہ تھے۔
ناصر بن ردان کی پیدائش سعودی عرب کے اتحاد سے قبل ہوئی تھی۔ انہوں نے سعودی عرب کو ایک پسماندہ صحرائی علاقے سے جدید اور خوشحال ملک میں تبدیل ہوتے دیکھا۔
انہوں نے اپنی زندگی میں سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آلِ سعود کے دور سے لے کر موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے عہد تک، مملکت کے تمام ساتوں بادشاہوں کا دورِ حکومت اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ناصر بن ردان کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ گہری مذہبی وابستگی کے باعث جانے جاتے تھے اور اپنی زندگی میں انہوں نے 40 سے زائد مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی۔
ناصر بن ردان نے سوگواران میں کُل 134 بچے چھوڑے جن میں ان کی اولاد اور پوتے، پوتیاں شامل ہیں۔ عرب ویب سائٹ کے مطابق ان کی اولاد میں 3 بیٹے اور 6 بیٹیاں شامل ہیں، جن سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 125 ہے۔
انہوں نے 3 شادیاں کر رکھی تھیں اور آخری شادی 110 برس کی عمر میں کی تھی، جس سے ان کے ہاں ایک بیٹی کی ولادت ہوئی۔
ان کی وفات کی خبر کو عرب میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر کوریج ملی۔ انہیں مملکت کی تاریخ اور روایات کا ایک زندہ انسائیکلوپیڈیا تصور کیا جاتا تھا۔