اپ ڈیٹ 12 جنوری 2026 08:15pm

عظیم باکسر محمد علی کے نام امریکی ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کا اعلان

دنیا کے عظیم ترین باکسر اور انسانی حقوق کی علامت سمجھے جانے والے محمد علی کو ایک اور تاریخی اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ امریکی ڈاک سروس نے اعلان کیا ہے کہ محمد علی کے نام سے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جا رہا ہے، جو 15 جنوری 2026 سے فروخت کے لیے دستیاب ہوگا۔

ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے مطابق لیجنڈ امریکی باکسر محمد علی نے کبھی مذاق میں کہا تھا کہ انہیں ڈاک ٹکٹ پر ہونا چاہیے کیونکہ یہی واحد طریقہ ہے کہ لوگ میری ٹکٹ کو زبان سے خط پر چسپاں کر سکیں۔ اب تین بار ہیوی ویٹ عالمی چیمپئن رہنے والے محمد علی کی یہ بات حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔

محمد علی جنہیں کھیلوں کی تاریخ کا سب سے مشہور اور بااثر باکسر سمجھا جاتا ہے، نہ صرف رنگ میں اپنی مہارت بلکہ سیاست، سماجی شعور اور بے مثال شخصیت کے باعث بھی دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔ امریکی ڈاک سروس نے پہلی بار ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محمد علی کی اہلیہ لونی علی، جو تقریباً 30 برس تک ان کی شریکِ حیات رہیں، انھوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس اعزاز پر بے حد خوش اور جذباتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی لوگ اس ٹکٹ کو دیکھیں گے، محمد علی کو یاد کریں گے۔ وہ لوگوں کے شعور میں زندہ رہیں گے اور میرے لیے یہ سب سے بڑی خوشی ہے۔

محمد علی 2016 میں 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک پارکنسنز کے مرض میں مبتلا رہے۔ اپنی زندگی اور وفات کے بعد انہیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا، جن میں 1960 کا اولمپک گولڈ میڈل، 1998 میں اقوام متحدہ کا ’’میسنجر آف پیس‘‘ ایوارڈ اور 2005 میں صدارتی تمغۂ آزادی شامل ہیں۔

لونی علی کے مطابق ڈاک ٹکٹ پر محمد علی کی تصویر اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے ان کے پیغامِ محبت، ہمدردی اور انسانیت کو اجاگر کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی ایک ایک فرد سے جڑ کر یہ پیغام دیتے تھے۔ کسی کو خط بھیجنا اور اس ٹکٹ کا استعمال کرنا اسی انسانی ربط کو آگے بڑھانے کا خوبصورت ذریعہ ہے۔

محمد علی ’’فارایوراسٹیمپ‘‘ کی پہلی تقریبِ اجرا جمعرات کو امریکی ریاست کینٹکی کے شہر لوئس وِل میں منعقد ہوگی، جو محمد علی کی جائے پیدائش ہے اور جہاں محمد علی سینٹر بھی قائم ہے۔

اس موقع پرعوام وہ ڈاک ٹکٹ خرید سکیں گے جن پر 1974 کی ایک تصویر شائع کی گئی ہے، جس میں محمد علی اپنے مشہور باکسنگ انداز میں نظر آتے ہیں۔ ہر شیٹ میں 20 ٹکٹ ہوں گے، جب کہ ایک اضافی تصویر میں محمد علی کو دھاری دار سوٹ میں دکھایا گیا ہے، جو ان کے سماجی اور انسانی خدمات کی علامت ہے۔

امریکی ڈاک سروس کے مطابق 2 کروڑ 20 لاکھ ٹکٹ شائع کیے گئے ہیں اور فروخت مکمل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ ’’فاریور اسٹیمپ‘‘ ہونے کے باعث یہ ٹکٹ ہمیشہ فرسٹ کلاس ڈاک کے لیے قابلِ استعمال رہیں گے۔

امریکی ڈاک سروس کی ڈائریکٹر لیزا باب سیمپل کے مطابق محمد علی کے انتقال کے فوراً بعد اس ڈاک ٹکٹ کا خیال سامنے آیا تھا، تاہم ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کا عمل طویل اور سخت مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ امریکی قوانین کے تحت کسی بھی شخصیت کو ڈاک ٹکٹ پر شائع کرنے کے لیے کم از کم تین برس کا انتقال شدہ ہونا ضروری ہے۔

بعد ازاں ’’ گیٹ دی چیمپ آف اسٹیمپ‘‘ مہم نے عوامی دلچسپی میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر سکا۔

محمد علی کے ڈاک ٹکٹ کے آرٹ ڈائریکٹر انتونیو الکالا کے مطابق سیکڑوں تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد حتمی انتخاب کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈاک ٹکٹ دراصل فن پارے ہوتے ہیں، جو قوم کی تاریخ، ہیروز اور اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں اور محمد علی کا ٹکٹ اس کی بہترین مثال ہے۔

محمد علی، جن کا پیدائشی نام کیسیئس کلے جونیئر تھا، انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام تبدیل کیا اور نسل، مذہب اور جنگ جیسے حساس موضوعات پر کھل کر بات کی۔ 1967 میں انہوں نے ویتنام جنگ کے خلاف اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر امریکی فوج میں شمولیت سے انکار کیا، جس کے نتیجے میں ان سے عالمی چیمپئن شپ چھین لی گئی اور وہ تین سال سے زائد عرصے تک باکسنگ سے باہر رہے۔

بعد ازاں امریکی سپریم کورٹ نے 1971 میں ان کی سزا کالعدم قرار دی، جس سے محمد علی عالمی سطح پر ایک مضبوط آواز کے طور پر ابھرے۔

اے پی کے مطابق یہ ڈاک ٹکٹ ایسے وقت میں جاری کیا جا رہا ہے جب امریکا اور دنیا شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ لونی علی کے مطابق اگر محمد علی آج زندہ ہوتے تو وہ نفرت سے دور رہتے اور روزمرہ کی بنیاد پر لوگوں سے محبت اور ہمدردی کے ساتھ جڑے رہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کی زندگی کو اپنانا ہوگا اور اسی طرح کے رحم، محبت اور انسانیت کے کام روزانہ کرنے ہوں گے جیسے وہ کرتے تھے۔

Read Comments