اپ ڈیٹ 13 جنوری 2026 11:18am

ایران پر حملہ کیا جائے یا سفارت کاری، وائٹ ہاؤس میں اختلاف

امریکا میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور جاری ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے اندر اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں صدر کے سینئر معاونین نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے سے پہلے سفارت کاری کو ایک موقع دیا جائے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے ردعمل میں فوجی کارروائی کے آپشن پر غور کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایک امریکی اخبار نے حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ عمومی طور پر ایران پر دباؤ بڑھانے کے حق میں ہیں، تاہم اس مرحلے پر حملے کے حوالے سے فیصلہ زیر غور ہے۔

کچھ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے محدود فوجی کارروائی کا حکم دیں اور اس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات پر غور کیا جائے۔

اسی دوران امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے رہے ہیں، لیکن اگر وہ ضروری سمجھیں تو فوجی طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے۔

ان کے مطابق ایرانی حکومت اس امریکی مؤقف سے بخوبی آگاہ ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ آئندہ کیا قدم اٹھائیں گے، اس کا حتمی علم صرف صدر کو ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی حکومت کی جانب سے عوامی بیانات اور نجی رابطوں میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایک طرف ایران عوامی سطح پر سخت مؤقف اختیار کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب نجی طور پر امریکا اور ٹرمپ انتظامیہ کو مختلف پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔

Read Comments