شائع 13 جنوری 2026 02:53pm

کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہ دہرانے کی کوشش کی گئی، شرجیل میمن

سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہ دہرانے کی کوشش کی گئی، پولیس پر پتھراو کیا گیا، مرد و خواتین صحافیوں کو پی ٹی آئی کی پرانی روایت کے تحت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

شرجیل میمن نے کراچی میں کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سندھ آئے تھے، جنہیں صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل سیکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سیکیورٹی تھریٹ موصول ہوا تھا جس سے خیبرپختونخوا حکومت کو بروقت آگاہ کیا گیا۔ سہیل آفریدی کو واضح طور پر کہا گیا تھا کہ انہیں مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے سہیل آفریدی کا استقبال کیا اور سندھ کی روایت کے مطابق انہیں اجرک اور سندھی ٹوپی کا تحفہ بھی دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے لیے 83 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج دیا ہے اور اس پر کام جاری ہے۔

تاہم سینئر وزیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سندھ حکومت سے کی گئی کمٹمنٹس کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بعض حساس علاقوں میں جانے سے روکا گیا تھا، مگر اس کے باوجود وہ وہاں گئے، جس کے نتیجے میں حالات کشیدہ ہوئے۔

شرجیل میمن کے مطابق تھریٹ کی وجہ سے ایک مخصوص راستہ کھولا گیا تھا، مگر پی ٹی آئی نے طے شدہ روٹ کی خلاف ورزی کی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو جناح گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم پارٹی نے احترام کی لاج نہیں رکھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سندھ حکومت تھی جس نے تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اس کے باوجود کراچی میں 9 مئی جیسے واقعے کو دہرانے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ جلسے کے دوران ٹی وی چینلز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، میڈیا کی گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے اور خواتین صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ کراچی نے انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے جلسے کے لیے طے شدہ روٹ فالو نہیں کیا اور حیدرآباد جا کر نام لے کر تنقید شروع کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کے ذہن میں شرارت تھی اور وہ کچھ اور کرنا چاہتی تھی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کا قومی دھارے میں رہ کر سیاست کرنے کا کوئی موڈ نظر نہیں آتا، جبکہ سندھ حکومت صوبے میں امن، ترقی اور برداشت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

دوسری جانب پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے سندھ کارڈیو ویسکیولر انسٹیٹیوٹ کے لیے 100 ملین روپے کی منظوری دی ہے، جبکہ حیدرآباد میں چرچ کی بحالی کی بھی منظوری دی جا چکی ہے۔

Read Comments