اپ ڈیٹ 15 جنوری 2026 09:12am

کشیدگی میں وقتی کمی، لیکن اشارے ہیں کہ امریکا ایران پر عنقریب حملہ کرے گا: میڈیا رپورٹس

امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ کا خدشہ عارضی طور پر کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک نے اپنے مؤقف میں کچھ لچک کا اظہار کیا ہے۔ ایران نے مظاہرین کو سزائیں نہ دینے کا اعادہ کیا ہے ، جس پر امریکا نے حملے سے گریز کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم، خبر رساں ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکا کی حکمت عملی ہے اور ایران پر اچانک حملہ کیے جانے کا امکان ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران مظاہرین کو سزائے موت دے سکتا ہے؟ تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پھانسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ایران سیاسی مخالفین کو پھانسی دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

عباس عراقچی کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران کچھ عناصر نے داعش طرز کی کارروائیاں کیں، پولیس اور عام شہریوں پر فائرنگ کی گئی تاکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھے اور امریکا کو ممکنہ حملے کا جواز مل سکے۔

ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے احتجاجی مظاہروں پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے کسی بھی شہر سے کسی احتجاجی مظاہرے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ایرانی وزیر انصاف امین حسین رحیمی نے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ آٹھ سے دس جنوری کے درمیان جو کچھ ہوا وہ عام احتجاج نہیں بلکہ مکمل خانہ جنگی کی صورتحال تھی۔

ان کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد مجرم ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رات گئے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران میں قتل عام بند ہو گیا ہے اور انہیں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ گرفتار افراد کو سزائے موت دینے پر بھی عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل ہوا تو امریکا سخت جواب دے گا۔

اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں اور یہی اختلافات حالیہ کشیدگی کی بڑی وجہ بنے رہے ہیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خدشات بھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور بعض اشارے اس بات کی طرف جاتے ہیں کہ اچانک فوجی کارروائی ہو سکتی ہے، جو امریکی فوجی حکمت عملی کا حصہ ہو گی۔

رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ان اطلاعات کے بعد برطانیہ نے عارضی طور پر تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا ہے جبکہ مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

غیر ملکی شہریوں کے ایران سے انخلا کا عمل جاری ہے اور خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

اسی کشیدہ ماحول میں امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ ممکنہ ایرانی ردعمل کے پیش نظر امریکی فوجی اہلکاروں نے قطر کے العدید ایئربیس سے انخلا شروع کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے مشرقی وسطیٰ میں تعینات فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت فوجیوں کو العدید ائربیس چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

برطانیہ نے بھی اسی اڈے سے اپنے عملے کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قطر کا العدید ائربیس مشرقی وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں دس ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی اہلکار نے بتایا کہ ایران نے مشرقی وسطیٰ میں امریکا کے اتحادی ممالک کو پیغام دے دیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران پر حملے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مجموعی طور پر اگرچہ بیانات کی سطح پر جنگ کا خطرہ وقتی طور پر کم ہوا ہے، لیکن زمینی حقائق اور عالمی رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خطے کی صورتحال اب بھی نازک ہے اور آنے والے دن اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Read Comments