شائع 15 جنوری 2026 11:02am

امریکی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک اور شہری زخمی

امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منی ایپولس میں امیگریشن ایجنسی ICE کے اہل کاروں نے ایک اور شخص کو گولی مارکر زخمی کردیا جس کے بعد شہر میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایک ہفتہ قبل اسی شہر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک ہوگئی تھیں۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے مطابق بدھ کی شب منی ایپولس میں ایک وفاقی افسر نے وینزویلا سے تعلق رکھنے والے ایک تارکِ وطن پر فائرنگ کی۔ ڈی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص 2022 میں امریکا آیا تھا اور اسے ایک ٹارگٹڈ ٹریفک اسٹاپ کے دوران روکا گیا تھا۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق تارکِ وطن نے اہلکار سے فرار ہونے کی کوشش کی اور گرفتاری کے دوران مزاحمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ دو دیگر افراد بھی اس شخص کو فرار کرانے کے لیے موقع پر پہنچے تھے جس کے بعد تارکِ وطن نے اہلکار پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق تین افراد کی جانب سے گھیرے جانے کے باعث اہلکار کو اپنی جان اور سلامتی کا خطرہ لاحق ہوا، جس پر اس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں وہ شخص زخمی ہوگیا۔

یہ تازہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران شروع کیے گئے امیگریشن کریک ڈاؤن اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم کو ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے اور یہ معاملہ ایک اہم سیاسی تنازع کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

ایک ہفتہ قبل منی ایپولس میں 37 سالہ خاتون رینی نکول گُڈ کو امیگریشن ایجنسی کے اہلکار نے فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔

پولیس کے مطابق رینی نکول گُڈ اپنی گاڑی میں تھیں اور اپنے شریکِ حیات کے ہمراہ شہر میں وفاقی اہلکاروں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر سوال اٹھا رہی تھیں۔

رینی نکول گُڈ کی ہلاکت نے امریکی سیاست میں شدید ردعمل کو جنم دیا، جہاں کئی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا، جبکہ ریپبلکن جماعت نے آئی سی ای کے اقدامات کا دفاع کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس اور دیگر وفاقی حکام نے بھی اہلکار کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے بیان میں کہا تھا کہ اس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ خاتون اسے گاڑی سے کچل سکتی تھی۔

Read Comments