ویزا سے متعلق امریکی حکام سے رابطے میں ہیں، پروسیسنگ جلد بحال ہونے کی امید ہے: دفتر خارجہ
دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکی امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ کے سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے اور امید ہے کہ ویزا کی معمول کی آن لائن پروسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی امیگرنٹ ویزا کی معطلی پاکستانی شہریوں کے لیے نہایت اہم معاملہ ہے اور حکومت اس پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق امریکی امیگریشن پالیسیوں کا یہ جائزہ ایک اندرونی اور روٹین کا عمل ہے، تاہم اس سلسلے میں پاکستانی شہریوں کی سہولت اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی حکام سے رابطے جاری رکھے جا رہے ہیں۔
دفتر خارجہ نے یقین دلایا کہ حکومت تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ امریکی امیگرنٹ ویزا سے متعلق پاکستانی شہریوں کی پریشانیوں کا بروقت حل نکالا جا سکے اور ویزا پروسیسنگ کے معمولات جلد سے جلد بحال ہوں۔
امریکا نے بدھ کو پاکستان سمیت دنیا کے 75 ممالک کے شہریوں کی جانب سے دی گئی امیگرنٹ ویزا درخواستوں پر کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا تھا۔ ان ویزوں کے ذریعے افراد امریکا میں مستقل سکونت اختیار کر سکتے تھے، تاہم اس فیصلے کے تحت اب نئی درخواستوں پر کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور حالیہ برسوں میں امیگریشن کے حوالے سے امریکا کا یہ سب سے سخت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس نئی پابندی کا اطلاق سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزوں پر نہیں ہو گا، یعنی ان ویزوں کے لیے درخواست دینے والے افراد اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔ تاہم جو لوگ مستقل رہائش، گرین کارڈ، شہریت یا پناہ کے لیے امیگرنٹ ویزا کے منتظر تھے، انہیں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے قونصل افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ امیگریشن کے خواہشمند افراد کی درخواستوں پر کارروائی روک دیں۔ تاہم محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کو پہلے ہی امیگرنٹ ویزا جاری کیا جا چکا ہے، انہیں منسوخ نہیں کیا جا رہا۔ اسی طرح متاثرہ ممالک کے شہری نئی امیگرنٹ ویزا درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں اور انٹرویوز بھی دے سکتے ہیں، لیکن جب تک یہ پابندی برقرار رہے گی، انہیں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اگر کوئی فرد کسی ایسے ملک میں رہتا ہے جو پابندی کی فہرست میں شامل ہے، لیکن اس کے پاس کسی دوسرے ایسے ملک کی شہریت اور پاسپورٹ موجود ہے جو اس فہرست میں شامل نہیں، تو اس شخص پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی۔ اس وضاحت سے دوہری شہریت رکھنے والے بعض افراد کو جزوی ریلیف مل سکتا ہے۔
پابندی کا سامنا کرنے والے ممالک میں جنوبی ایشیا کے کئی ممالک شامل ہیں۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ایشیا اور پیسیفک خطے سے جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں پاکستان، افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، فیجی، جارجیا، قزاقستان، کرغزستان، لاؤس، منگولیا، میانمار، نیپال، تھائی لینڈ اور ازبکستان شامل ہیں۔
مشرق وسطیٰ سے ایران، عراق، اردن، کویت، لبنان، شام اور یمن کے شہریوں کو اس پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یورپ کے بعض ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن میں البانیہ، روس، بیلاروس، بوسنیا، کوسووو، مالدووا، مونٹی نیگرو اور مقدونیہ شامل ہیں۔
کریبیئن اور وسطی امریکا کے کئی ممالک بھی اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں انٹیگوا اور باربیوڈا، بہاماس، بارباڈوس، بلیز، کیوبا، ڈومینیکا، گرینیڈا، گوئٹے مالا، ہیٹی، جمیکا، نکاراگوا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز اور سینٹ لوسیا شامل ہیں۔ جنوبی امریکا سے برازیل، کولمبیا اور یوراگوائے کو بھی پابندی کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔
افریقی ممالک اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں 25 سے زائد ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں الجزائر، کیمرون، کیپ وردے، کوٹ ڈی آئیور، جمہوریہ کانگو، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا، گھانا، گنی، لائیبیریا، لیبیا، مراکش، نائیجیریا، کانگو، روانڈا، سینیگال، سیرالیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، تنزانیہ، گیمبیا، ٹوگو، تیونس اور یوگنڈا شامل ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نومبر 2025 میں امریکا پہلے ہی 19 ممالک کے تارکین وطن پر پناہ، شہریت اور گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے پر پابندی عائد کر چکا تھا، اور اب ان ہی ممالک کو نئی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے جو برسوں سے امریکا میں مستقل رہائش کے منتظر تھے، جبکہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امیگریشن پالیسیوں کے جامع جائزے کا حصہ ہے۔