اپ ڈیٹ 17 جنوری 2026 08:42pm

مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور تشدد میں امریکا اور اسرائیل براہِ راست ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی پشت پناہی سے ہونے والے احتجاج نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر تشدد میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام لگایا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا۔

آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران امریکا اور اسرائیل سے وابستہ عناصر نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بدامنی ماضی کے واقعات سے مختلف تھی کیونکہ اس بار امریکی صدر نے خود براہِ راست مداخلت کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ امریکا کی منصوبہ بندی تھی اور اس کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانا تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ حالیہ بدامنی امریکا کی منصوبہ بندی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ امریکا کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانا اور اس پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔ یہ پالیسی کسی ایک امریکی حکومت تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل المدتی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران میں ہونے والے مظاہرے ابتدا میں پُرامن تھے تاہم بعد ازاں یہ پُرتشدد ہو گئے۔ مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ سرکاری اور عوامی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدامنی کے دوران آگ لگانے، توڑ پھوڑ اور تخریب کاری میں ملوث عناصر کو ایرانی شہریوں کے طور پر پیش کیا گیا، جو ایرانی قوم پر سنگین بہتان اور جرم ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ بدامنی میں ملوث کئی عناصر کی شناخت ہو چکی ہے، جنہیں امریکی اور اسرائیلی اداروں نے بھرتی کیا، تربیت اور وسائل فراہم کیے اور انہیں خوف اور تباہی پھیلانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نہ تو ملک کو جنگ کی طرف لے جائے گا اور نہ ہی داخلی اور خارجی دشمنوں کو بغیر سزا کے چھوڑے گا۔

اس سے پہلے بھی ایرانی حکام متعدد مرتبہ حالیہ احتجاجی مظاہروں میں اسرائیل اور امریکا کے ملوث ہونے کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔

ان الزامات کے ثبوت کے طور پر سابق امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے سوشل میڈیا بیان اور مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے اکاؤنٹس سے فارسی زبان میں پوسٹس کا حوالہ دیا جاتا ہے جس میں مظاہرین کی کھلی حوصلہ افزائی کی گئی۔

Read Comments