عتیقہ اوڈھو کے ساتھ رومانوی مناظر، ایوب کھوسو کی کیا حالت تھی؟
پاکستان ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کے سینیئر فنکار ایوب کھوسہ نے اپنے ماضی کے ایک یادگار مگر مشکل تجربے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
چار دہائیوں پر محیط فنی سفر رکھنے والے ایوب کھوسو کا تعلق بلوچستان سے ہے ۔ ان کا شمار ایسے اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے مضبوط اور سنجیدہ کرداروں سے اپنی منفرد شناخت بنائی۔
حال ہی میں وہ ایک نجی چینل کے پروگرام میں شریک ہوئے، جہاں گفتگو کے دوران انہوں نے 1990 کی دہائی کے مقبول ڈرامہ سیریل ’دشت‘ کے دوران پیش آنے والے دلچسپ واقعات شیئر کیے۔
’دشت‘ کو اس کے مضبوط اسکرپٹ، مکالموں اور ثقافتی نمائندگی کی وجہ سے پاکستانی ڈراموں کی تاریخ کے اہم اور کلاسک ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس ڈرامے میں ایوب کھوسو اورعتیقہ اوڈھو نے مرکزی کردار ادا کیے تھے، جنہیں ناظرین نے بے حد سراہا۔ جبکہ دیگر اداکاروں میں نعمان اعجاز، اسد ، رشید ناز اور عابد علی شامل تھے۔
ایوب کھوسو نے بتایا کہ انہوں نے دشت میں ایک سخت گیر قبائلی کا کردارادا کیا تھا اور اسی وجہ سے رومانوی سین کرنا ان کے لیے خاصا مشکل تھا۔
ان کے مطابق بلوچ ثقافت میں محبت کے اظہار کا انداز مختلف اور نسبتاً محتاط ہوتا ہے، جبکہ ڈرامے کے ہدایتکار طارق معراج کی ڈیمانڈ تھی کہ رومانس کو شاعرانہ انداز اور چہرے کے تاثرات کے ساتھ دکھانا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض مناظر میں اداکارہ کے حسن کی تعریف کرنا یا ہاتھ تھامنے جیسے سین شامل تھے، جنہیں ادا کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
ایوب کھوسو نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی اکثر ایسے ہدایت کاروں سے ایسے مناظر کم کرنے کی درخواست بھی کیا کرتے تھے۔
ایوب کھوسو کا کہنا تھا کہ وہ عام زندگی میں ایک کم گو اور سنجیدہ انسان ہیں اور آن اسکرین رومانس اور ذاتی مزاج میں واضح فرق ہوتا ہے۔
ان کے اس اعتراف سے مداحوں میں ماضی کے کلاسک ڈراموں کی یادیں بھی تازہ کر دی۔