کم کیلوریز والی قدرتی شکر تیار، انسولین میں اضافہ بھی نہیں کرتی
سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کی قدرتی شکر تیار کی ہے جو ذائقے میں عام شکرجیسی میٹھی ہے، لیکن یہ صحت کو نقصان نہیں پہنچاتی۔
اس شکرکا نام ٹاگیٹوز ہے۔ اس میں کیلوریز بہت کم ہیں اور یہ خون میں شوگر یا انسولین کو اچانک نہیں بڑھاتی، اس لیے یہ خاص طور پر شوگر کے مریضوں کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔
ٹاگیٹوز عام شکر کے مقابلے میں تھوڑی کم میٹھی ہے، مگر ذائقہ تقریباً ویسا ہی ہوتا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں کیلوریز صرف ایک تہائی ہوتی ہیں، یعنی وزن بڑھنے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
یہ شکر قدرتی طور پر کچھ پھلوں اور دودھ میں بہت تھوڑی مقدار میں پائی جاتی ہے، اسی لیے پہلے اسے بنانا مہنگا اور مشکل تھا۔ اب سائنسدانوں نے بیکٹیریا کی مدد سے اسے آسانی سے بنانے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔
انہوں نے ای کولی نامی بیکٹریا کو اس طرح تیار کیا کہ وہ چھوٹی فیکٹریوں کی طرح کام کریں۔ ان بیکٹیریاز میں ایک خاص اینزائم شامل کیا گیا، جو گلوکوز کو مؤثر انداز میں ٹاگیٹوز میں تبدیل کرتا ہے۔ اس نئے طریقے سے پیداوار کی شرح 95 فیصد تک پہنچ گئی، جو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق یہ شکر دانتوں کے لیے بھی بہتر ہے اور منہ میں جراثیم کو بڑھنے نہیں دیتی۔ اس کے علاوہ اسے کیک یا بسکٹ بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ گرم ہونے پر خراب نہیں ہوتی۔ جو اکثر مصنوعی مٹھاس میں ممکن نہیں ہوتا ہے۔
یہ شکر جزوی طور پر ہضم ہوتی ہے، جس سے آنتوں میں فائدہ مند بیکٹیریا کی افزائش میں مدد مل سکتی ہے۔ کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ وزن اور کولیسٹرول کو بہتر بنانے میں بھی معاون ہو سکتی ہے، تاہم اس پر مزید تحقیق جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ شکرعام لوگوں تک پہنچ گئی تو شوگر، موٹاپے اور دل کے مریضوں کے لیے یہ ایک بڑی راحت ثابت ہو سکتی ہے۔