شائع 18 جنوری 2026 03:00pm

سانحہ گُل پلازہ پر شہر رنجیدہ؛ ’دکاندار زندگی کی کمائی کو جلتا دیکھ رہے ہیں‘

کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیسری درجے کی یہ آتشزدگی نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوئی بلکہ اس نے ہزاروں تاجروں اور شہریوں کی زندگیوں کو بھی ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے۔

کراچی کے شہریوں نے گُل پلازہ کو اپنی یادوں کا اہم حصہ قرار دیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

کراچی کی معروف کاروباری شخصیت تابانی گروپ کے چیئرمین حمزہ تابانی نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں کے روزگار اور کاروبار بھی شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے متاثرین کے لیے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ ’یا اللہ، جو لوگ اس حادثے میں جان کی بازی ہار گئے ان پر رحم فرما، جو اب تک لاپتا ہیں ان کی حفاظت فرما، اور ہر غمزدہ دل کو صبر عطا فرما۔ اے اللہ، اپنی رحمت سے تمام متاثرہ افراد کو حوصلہ، سکون اور آسانی عطا فرما‘۔

کراچی میں صحافتی امور انجام دینے والے فیضان لاکھانی نے لکھا کہ ’گل پلازہ میں جو کچھ ہوا اسے دیکھ کر دل ٹوٹ گیا ہے۔ یہ کوئی عام مارکیٹ نہیں، کراچی میں رہنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ گل پلازہ کی کیا اہمیت ہے۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ شہر کے بڑے ہول سیل اور ریٹیل مراکز میں سے ایک ہے جہاں ہوم ڈیکور، کھلونے، سامانِ سفر، کراکری، گھریلو آلات اور الیکٹرانکس کی لاکھوں اور کروڑوں کی تجارت ہوتی ہے۔ آج دکاندار باہر کھڑے اپنی زندگی کی کمائی کو جلتا ہوا دیکھ رہے ہیں‘۔

فیضانی لاکھانی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہی کراچی ہے جو اس ملک کے لیے سب سے زیادہ آمدن پیدا کرتا ہے، مگر جب یہ شہر مدد کے لیے پکارتا ہے تو کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ ہم ہمیشہ حادثے کے بعد ردعمل دیتے ہیں، پہلے سے تیاری کبھی نہیں کرتے۔ اگر برسوں پہلے مؤثر اقدامات کیے جاتے تو شاید یہ سانحہ ٹالا جا سکتا تھا، مگر تب بھی کچھ نہ بدلا اور اب بھی کچھ بدلتا دکھائی نہیں دیتا۔ برسوں سے کہا جا رہا ہے کہ کراچی کو ناقابلِ انتظام بنا دیا گیا ہے، اور آج کا دن اس تلخ حقیقت کی ایک اور یاد دہانی بن کر سامنے آیا ہے۔‘

آتشزدگی کے بعد متاثرہ عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا، ریسکیو آپریشن کے دوران ایک فائر فائٹر بھی جان سے گیا، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہو گئی، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

صحافی فہمیدہ یوسفی نے کہا کہ ’گل پلازہ کی بالائی منزل تک پہنچنے کی کوشش کے دوران ایک سیڑھی اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں دو ریسکیو اہلکار نیچے گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ ہم ان بہادر ریسکیو اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر فرض کی ادائیگی، ہمت، لگن اور بے لوث خدمت کی مثال قائم کر رہے ہیں۔‘

سینئیر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ‘ہم صرف حادثے کے بعد ردعمل دیتے ہیں، پہلے کبھی عملی قدم نہیں اٹھاتے۔ اگر سندھ حکومت نے چند سال پہلے جیل روڈ کے قریب ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، کوئی مؤثر اقدامات کیے ہوتے تو شاید آج گل پلازہ کا سانحہ پیش نہ آتا۔‘

مظہر عباس کا اشارہ جیل روڈ پر واقع ڈیپارٹمنٹل اسٹور ”چیز اپ“ میں لگی آگ کی طرف تھا، جس میں ایک شخص کی جان چلی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس معاملے میں بھی کچھ خاص ہونے والا نہیں۔ میں برسوں سے کہہ رہا ہوں کہ نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے کراچی ناقابلِ انتظام اور ناقابلِ کنٹرول ہو چکا ہے۔‘

سینئیر صحافی عصمت ملک نے لکھا کہ ’کراچی کے گل پلازہ میں ہلاکت خیز آگ ایسے وقت میں لگی ہے جب چند دن قبل بلاول بھٹو زرداری نے ایوانِ صدر میں سندھ حکومت کی کارکردگی پیش کی تھی۔ یہ سانحہ سرکاری دعوؤں اور کراچی میں حفاظت، ضابطہ بندی اور شہری نظم و نسق کی زمینی حقیقت کے درمیان موجود فرق کو دردناک انداز میں نمایاں کرتا ہے۔‘

کراچی کے صحافی حسن عباس نے لکھا کہ ’گل پلازہ کی آگ سندھ حکومت اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی کراچی فائر بریگیڈ کے ساتھ برسوں کی غفلت کو اجاگر کرتی ہے۔ فائر رسک الاؤنس نہیں دیا گیا، واجبات ادا نہیں ہوئے، اپ گریڈیشن نہیں ہوئی، نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں اور کئی سالوں سے نئے فائر اسٹیشن بھی قائم نہیں کیے گئے۔ یہ غفلت انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔‘

دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج ہے۔ حادثے کے بعد صوبائی حکومت کا عملہ فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچا اور سرکاری مشینری رات بھر آگ بجھانے میں مصروف رہی۔

ریسکیو 1122 کے سی او او ڈاکٹر عابد جلال الدین نے بھی کہا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تقریباً سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل ہو گیا۔ ابتدائی مراحل میں عمارت کے اندر داخل ہونا اور بروقت ریسکیو کرنا مشکل تھا، اور شروع میں پانی کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج بنی۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے عوامی غفلت کی نشاندہی بھی کی۔

اینکر پرسن اشعر عالم نے کہا کہ ’اتفاق سے کل میں گل پلازہ کے سامنے واقع روبی پلازہ کے سامنے ایک ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔ وہاں دکان داروں نے اعتراض کیا کیونکہ انہوں نے مجھے فائر ایگزٹس کی کمی، عمارت کی خراب حالت اور غیر محفوظ الیکٹریکل وائرنگ سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے سن لیا تھا۔‘

مصنف و صحافی مہوش اعجاز نے بھی کہا کہ ’گل پلازہ کئی دہائیوں سے کراچی کی پہچان کا ایک اہم حصہ رہا ہے، اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ واقعی ایک المیہ ہے۔ ویسے یہ حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ہماری عمارتوں اور شاپنگ سینٹرز میں حفاظتی انتظامات کی شدید کمی ہے‘۔

انہوں نے شہر میں موجود ایک اور عمارت کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ ’ذرا طارق روڈ پر واقع رابی سینٹر کو بھی غور سے دیکھ لیں، وہ بھی کسی بڑے حادثے کا انتظار کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔‘

کراچی سے کچھ رہائشیوں نے گل پلازہ سے متعلق اپنے ماضی کے تجربات بھی شیئر کیے۔

کراچی کی ایک رہائشی ”رامین“ نامی ایکس صارف نے بتایا کہ ’امی نے اپنا جہیز گل پلازہ سے لیا تھا۔ ان کا پسندیدہ ماربل کا ڈنر سیٹ آج بھی گل پلازہ ہی کی یاد دلاتا ہے۔ میری زندگی کی سب سے پہلی ریموٹ کنٹرول کار میں نے گراؤنڈ فلور پر صابر انکل کی دکان سے لی تھی۔ آج ہمارا گھر ایسی بے شمار چیزوں سے بھرا ہوا ہے جو ایک ایسے مال سے آئی تھیں جو اب جل رہا ہے اور ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔‘

کراچی کے ہی ایک اور رہائشی اور کاروباری شخصیت فیصل احمد جعفری نے کہا کہ ’گل پلازہ میرے دل کے بہت قریب ہے۔ ایک تو میں آئی بی اے کا سابق طالب علم ہوں، اس لیے اسے اکثر دیکھتا رہا ہوں۔ دوسرا یہ کہ مجھے انٹیریئر ڈیزائن کا شوق ہے، اور تیسرا یہ کہ میں خود بھی وہاں کئی بار جا چکا ہوں‘۔

فیصل احمد نے لکھا، ’ان دکانداروں کے لیے دل بہت افسردہ ہے جنہوں نے سب کچھ کھو دیا، اور اس سے بھی زیادہ قیمتی جانوں کے ضیاع کا دکھ ہے۔‘

Read Comments