’ورلڈ کپ کھیلیں گے یا نہیں، جواب دینا میرے لیے خطرناک ہے‘: بنگلہ دیشی کپتان
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان لٹن داس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت سے متعلق سوال پر جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ورلڈ کپ کھیلیں گے یا نہیں، جواب دینا میرے لیے خطرناک ہے۔
بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے ایک میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران جب لٹن داس سے ورلڈ کپ کی تیاری اور ٹورنامنٹ کی پچز کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بالواسطہ طور پر بنگلہ دیش کی ممکنہ عدم شرکت کا اشارہ دے دیا۔
لٹن داس کا کہنا تھا، ’کیا آپ کو یقین ہے کہ ہم ورلڈ کپ کھیلنے جا رہے ہیں؟ میری طرف سے تو میں خود غیر یقینی میں ہوں، سب غیر یقینی میں ہیں۔ اس وقت پورا بنگلہ دیش غیر یقینی کا شکار ہے۔ میں سمجھتا ہوں آپ کیا سوال پوچھنا چاہتے ہیں، مگر اس پر جواب دینا میرے لیے محفوظ نہیں، اس لیے کوئی جواب نہیں دوں گا۔‘
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ بی سی بی نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ بھارت میں ہونے والے اپنے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں، تاہم آئی سی سی اب تک اس مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آ رہی۔ دونوں فریقین کے درمیان متعدد اجلاس بھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
اس سے قبل بنگلہ دیشی حکومت کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرالاسلام نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی صورت میں قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا سفر نہیں کرے گی، چاہے آئی سی سی کی جانب سے ڈیڈ لائن ہی کیوں نہ دی جائے۔
آصف نذرالاسلام کا کہنا تھا کہ اگر بنگلہ دیش نے 20 ٹیموں کے ٹورنامنٹ کے لیے بھارت جانے سے انکار برقرار رکھا تو رینکنگ کے مطابق اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم انہیں اس بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ، اگر آئی سی سی بھارتی کرکٹ بورڈ کے دباؤ میں آ کر ہم پر غیر منطقی شرائط مسلط کرنے کی کوشش کرے گی تو ہم انہیں قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب پاکستان نے بھارت جانے سے انکار کیا اور آئی سی سی نے مقام تبدیل کیا۔ ہم نے بھی منطقی بنیادوں پر مقام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے، ہمیں غیر منطقی دباؤ کے تحت بھارت میں کھیلنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔‘
واضح رہے کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو 21 جنوری تک اپنی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ کرنے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، تاہم تاحال صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔