ٹرمپ کو گرین لینڈ معاملے پر ڈیووس عالمی فورم میں سخت ردعمل کا امکان
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاؤوس میں ’عالمی اقتصادی فورم‘ کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورے کا مرکز گرین لینڈ کے حصول کو بنایا ہے۔ ٹرمپ کی یہ کوشش یورپی ملکوں کی مخالفت کے باوجود شمالی اوقیانوس میں امریکا کی عسکری اور اقتصادی موجودگی کو بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ڈاؤوس روانگی سے قبل اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کی ضرورت قومی سلامتی کے لیے ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ایک ایسا معاہدہ کیا جا سکتا ہے جس سے نیٹو اور امریکا دونوں خوش ہوں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں یہ واضح نہیں کیا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے کس حد تک جانے کو تیار ہیں۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے بس مختصر جواب دیا کہ ”آپ خود دیکھ لیں گے“۔
اس دوران ٹرمپ نے یورپی ملکوں کو خبردار کیا کہ جو لوگ گرین لینڈ میں امریکی موجودگی کے مخالف ہیں، ان کے ساتھ تجارتی تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے حال ہی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا کر وہاں کے تیل پر کنٹرول حاصل کیا، اور اس کے بعد انہوں نے کیوبا، کولمبیا اور ایران کے خلاف بھی اقدامات کرنے کی بات کی۔
گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈے کی موجودگی کی وجہ سے ٹرمپ نے اس جزیرے پر عسکری آپریشن کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا ہے۔
ٹرمپ کی گرین لینڈ پالیسی کے حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نیٹو اتحاد کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس موقع پر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا نجی پیغام بھی جاری کیا، جس میں میکرون نے کہا تھا کہ وہ ڈاؤوس کے بعد پیرس میں موجود دیگر جی سیون رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کریں، لیکن ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
اسی دوران ڈنمارک اور گرین لینڈ نے امریکی موجودگی کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں، مگر ٹرمپ کی مخالفت برقرار ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ترمیم شدہ تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ گرین لینڈ میں امریکی پرچم لگاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ٹرمپ کا ڈاؤوس کا دورہ صرف گرین لینڈ تک محدود نہیں ہے، وہ امریکی معیشت کی مضبوطی کے بارے میں بھی خطاب کریں گے اور امریکا کی اندرونی اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، صدر ٹرمپ ایک ریٹائرمنٹ سیونگ پروگرام کے ذریعے ہاؤسنگ کے اخراجات کم کرنے کے لیے نئے منصوبے کا اعلان بھی کریں گے۔
ٹرمپ کے ڈاؤوس میں قیام کے دوران سوئٹزرلینڈ، پولینڈ اور مصر کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
جمعرات کو وہ بورڈ آف پیس کی تقریب کی صدارت کریں گے، جس کا مقصد غزہ کی دوبارہ تعمیر اور اسرائیل و حماس کے درمیان نازک جنگ بندی کو مستحکم کرنا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بورڈ آف پیس عالمی بحرانوں پر بھی کام کر سکتا ہے، جو عام طور پر اقوام متحدہ کا کردار رہا ہے۔
صدر ٹرمپ جمعرات کی دیر شام واشنگٹن واپس روانہ ہوں گے۔