شائع 21 جنوری 2026 06:48pm

آئی سی سی کا ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کا شیڈول برقرار رکھنے کا اعلان

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے آئندہ ماہ فروری سے شروع ہونے والے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے میچز کا شیڈول برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچ بھارت میں ہی کھیلے جائیں گے۔

آئی سی سی نے بدھ 21 جنوری کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والے بورڈ ممبرز کے اجلاس کے بعد مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے جاری میچز کے شیڈول کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کے بعد بلایا گیا تھا۔

آئی سی سی کے مطابق اجلاس میں تمام دستیاب سیکیورٹی اسیسمنٹس، بشمول آزاد اداروں کی رپورٹس، کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ بھارت میں ٹورنامنٹ کے کسی بھی مقام پر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں، آفیشلز، میڈیا نمائندوں اور شائقین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

بورڈ اجلاس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ٹورنامنٹ کے اتنے قریب شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں اور کسی قابلِ تصدیق سیکیورٹی خطرے کے بغیر ایسی تبدیلی مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس کے لیے ایک مثال قائم کر سکتی ہے، جو عالمی گورننگ باڈی کی غیر جانبداری اور ایونٹس کی ساکھ کو متاثر کرے گی۔

آئی سی سی انتظامیہ کی جانب سے مسئلہ حل کرنے کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ متعدد خط و کتابت اور ملاقاتیں بھی کی گئیں، جن میں ایونٹ کے سیکیورٹی پلان، وفاقی اور ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئیں۔

آئی سی سی کے ترجمان کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بنگلہ دیش کی شرکت یقینی بنانے کے لیے بی سی بی سے مسلسل رابطہ کیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آزاد سیکیورٹی رپورٹس، تفصیلی وینیو لیول سیکیورٹی پلان اور میزبان حکام کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں میں کسی بھی قسم کے قابلِ تصدیق خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بی سی بی نے اپنی شرکت کو ایک کھلاڑی کے ڈومیسٹک لیگ سے متعلق ایک غیر متعلقہ معاملے سے جوڑے رکھا، جس کا ٹورنامنٹ کی سیکیورٹی یا شرائطِ شرکت سے کوئی تعلق نہیں۔

آئی سی سی کے مطابق وینیوز اور شیڈول سے متعلق فیصلے تمام 20 شریک ممالک کے لیے یکساں اصولوں، سیکیورٹی رپورٹس اور میزبان ممالک کی ضمانتوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ کسی ٹھوس سیکیورٹی خطرے کے بغیر میچز کی منتقلی دیگر ٹیموں اور شائقین کے لیے انتظامی مشکلات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیچیدہ مثالیں بھی قائم کر سکتی ہے۔

آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ وہ نیک نیتی، یکساں معیار اور عالمی کرکٹ کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

خیال رہے کہ بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کے تحت بھارت میں ہونے والے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنےکا مطالبہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب  آئی پی ایل کی ٹیم کلکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بھارتی ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد لیگ سے باہر کر دیا تھا جس کے بعد دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ہنگامی اجلاس بلاتے ہوئے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

Read Comments