شائع 22 جنوری 2026 12:44pm

بنگلادیشی مؤقف تسلیم نہ کرنے پر پاکستان کا ٹی 20 ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا امکان

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سلسلے میں آئی سی سی کے مبینہ دہرے معیار کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی موقف اختیار کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کا موقف تسلیم نہ کیا گیا تو پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ بنگلادیش بورڈ حکومتی ہدایت پر آج حتمی فیصلہ کرے گا۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل آج ڈھاکا میں کھلاڑیوں سے ملاقات کریں گے تاکہ ان کے موقف کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔

بی سی بی کے سینئر کھلاڑی اس معاملے میں ورلڈکپ کھیلنے کے حق میں ہیں، لیکن حکومت اور بورڈ کے فیصلے کے مطابق اگلے اقدامات کیے جائیں گے۔

پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ وہ کھلاڑیوں اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا، اور اگر عالمی کرکٹ کونسل کے فیصلے میں پاکستان کے موقف کو نظر انداز کیا گیا تو بائیکاٹ ایک ممکنہ آپشن ہے۔

یہ معاملہ عالمی کرکٹ کے حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ آئی سی سی کے دہرے معیار اور ممالک کے حقوق کے تعارض نے کھلاڑیوں، بورڈز اور شائقین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

خیال رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کی درخواست مسترد کرچکا ہے۔ آئی سی سی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ بنگلادیش بھارت نہ گیا تو متبادل ٹیم کا انتظام کریں گے، جس کا متبادل اسکاٹ لینڈ ہوسکتی ہے۔

آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ایک دن کی مہلت دی تھی تاکہ وہ بنگلہ دیشی حکومت سے مشاورت کے بعد یہ حتمی فیصلہ کرے کہ آیا بنگلہ دیش کی ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کھیلنے کے لیے بھارت جائے گی یا نہیں۔ اگر بنگلہ دیش نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت جانے سے انکار کیا تو اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرلیا جائے گا، جو ٹیم رینکنگ کی بنیاد پر ہوگا۔

یہ فیصلہ بدھ کو آئی سی سی بورڈ ممبرز کے اجلاس میں سامنے آیا تھا جہاں اکثریتی ڈائریکٹرز نے بنگلہ دیش کی جگہ متبادل ٹیم شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اجلاس میں موجود 15 ڈائریکٹرز میں سے صرف پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی حمایت کی تھی۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے 4 جنوری کو بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے باعث ٹیم کو بھارت نہیں بھیجے گا۔ یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا تھا جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی تھی کہ وہ آئی پی ایل 2026 کے لیے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کر دیں، تاہم اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

دوسری جانب آئی سی سی نے آئندہ ماہ فروری سے شروع ہونے والے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے میچز کا شیڈول برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے میچ بھارت میں ہی کھیلے جائیں گے۔

آئی سی سی نے بدھ 21 جنوری کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والے بورڈ ممبرز کے اجلاس کے بعد مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے جاری میچز کے شیڈول کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کے بعد بلایا گیا تھا۔

آئی سی سی کے مطابق اجلاس میں تمام دستیاب سیکیورٹی اسیسمنٹس، بشمول آزاد اداروں کی رپورٹس، کا جائزہ لیا گیا تھا، جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ بھارت میں ٹورنامنٹ کے کسی بھی مقام پر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں، آفیشلز، میڈیا نمائندوں اور شائقین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

بورڈ اجلاس میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ٹورنامنٹ کے اتنے قریب شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں اور کسی قابلِ تصدیق سیکیورٹی خطرے کے بغیر ایسی تبدیلی مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس کے لیے ایک مثال قائم کر سکتی ہے، جو عالمی گورننگ باڈی کی غیر جانبداری اور ایونٹس کی ساکھ کو متاثر کرے گی۔

Read Comments