شہر بدل گیا عادت نہ بدلی: شاہد آفریدی اسلام آباد جا کر بھی کراچی کو اپنے اندر سے نکال نہ پائے
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی اگرچہ کراچی چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہوگئے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ کراچی ان کے اندر سے ابھی تک مکمل طور پر نہیں نکل سکا ہے۔ شہر بدلا ہے، موسم بدلا ہے، پہاڑ اور ہریالی سے گھِر گئے ہیں، مگر ان کی عادتیں وہی پرانی کراچی والی ہیں۔
حال ہی میں شاہد آفریدی نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اسلام آباد کے اپنے گھر میں ناشتہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔
ویڈیو میں سرسبز مناظر ہیں، اردگرد کا ماحول پرسکون ہے، سامنے مارگلہ کے پہاڑ ہیں۔
لیکن اصل کہانی ویڈیو سے زیادہ اس کے کیپشن میں چھپی ہوئی تھی، جہاں شاہد آفریدی نے لکھا: ’اگر وقت گیارہ بجے کے بعد ہو لیکن ایک بجے سے پہلے ہو تو وہ ناشتہ ہی ہوتا ہے‘۔
بس یہی وہ جملہ تھا جس نے ثابت کر دیا کہ کراچی کا بندہ چاہے کہیں بھی رہے، اگر دل کراچی کا ہو تو گیارہ بجے سے پہلے ناشتے پر دل مانتا ہی نہیں۔
کراچی میں ناشتہ ایک لائف اسٹائل ہے، جس کے اوقات کار طے نہیں ہیں، اکثر یہ ناشتہ دوپہر کے قریب جا کر ہوتا ہے۔ بیرون ملک اسے ’برنچ‘ کہا جاتا ہے۔
دوسری طرف اسلام آباد ہے، جہاں لوگ فجر کے ساتھ جاگتے ہیں، چھ بجے واک پر نکلتے ہیں، سات بجے ناشتہ کرتے ہیں اور آٹھ بجے اپنی مصروفیات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اسلام آباد کے اکثر رہائشیوں کا تو رات دس بجے موبائل بھی سو جاتا ہے۔
ایسے شہر میں صبح گیارہ بجے ناشتہ کرنا ایک چھوٹا سا ثقافتی جھٹکا بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
شاہد آفریدی کی ویڈیو دیکھ کر اسلام آباد کے کئی لوگ شاید حیران ہوئے ہوں کہ یہ ناشتہ ہے یا لنچ کا ٹیزر، جبکہ کراچی والوں نے دل ہی دل میں مسکرا کر کہا ہوگا کہ بالکل ٹھیک کہا، گیارہ بجے کا ناشتہ ناشتہ ہی ہوتا ہے۔
آخر عادتیں شہر بدلنے سے نہیں بدلتیں، خاص طور پر جب بات کراچی کی ہو۔
یوں لگتا ہے کہ آفریدی صاحب نے اسلام آباد کا ایڈریس تو لے لیا ہے، مگر ان کی گھڑی اب بھی کراچی کے وقت پر چل رہی ہے۔
پہاڑوں کے درمیان بیٹھ کر بھی اگر ناشتہ گیارہ بجے ہو رہا ہو تو سمجھ لیجیے کہ کراچی صرف ایک شہر نہیں، ایک عادت ہے، جو انسان کے ساتھ ہر جگہ چلی جاتی ہے۔