گرین لینڈ ہمارا مسئلہ نہیں، امریکا اور ڈنمارک خود نمٹ لیں: صدر پیوٹن
گرین لینڈ کے معاملے پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا پہلا بیان سامنے آگیا ہے۔ صدر پیوٹن نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کی ملکیت کا معاملہ امریکا اور ڈنمارک آپس میں حل کرلیں، روس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
صدر پیوٹن کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کو گرین لینڈ کی ملکیت کے معاملے پر کوئی تشویش نہیں ہے، یہ معاملہ امریکا اور ڈنمارک کے درمیان طے ہونا چاہیے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ گرین لینڈ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہمیں قطعاً کوئی سروکار نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈنمارک نے ہمیشہ گرین لینڈ کے ساتھ نوآبادیاتی سلوک کیا ہے اور اس کے رویے میں سختی بلکہ بعض اوقات سفاکی بھی رہی ہے تاہم یہ ایک الگ معاملہ ہے جس میں اب شاید ہی کسی کی دلچسپی ہو۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس معاملے پر پہلی مرتبہ عوامی سطح پر بات کرتے ہوئے کہا کہ روس کو ٹرمپ کی گرین لینڈ پر کنٹرول کی کوششوں پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کی ممکنہ قیمت تقریباً ایک ارب ڈالر ہو سکتی ہے۔
صدر پیوٹن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق بیانات پر امریکا اور یورپ کے درمیان اختلافات عروج پر ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس معاملے میں مخالفت پر کئی یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل امریکی صدر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اگر گرین لینڈ کو امریکا کے حوالے نہ کیا گیا تو روس اور چین اس پر قبضہ کرلیں گے۔
ڈنمارک کی جانب سے یوکرین کو مالی اور فوجی امداد پر روس کو اعتراضات ہیں۔ تاہم روسی وزارت خارجہ صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر روس پر قبضے کے الزامات پر ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ معدنی وسائل سے مالا مال یہ وسیع جزیرہ، جہاں پہلے ہی امریکی فوجی موجودگی ہے، ڈنمارک کا فطری حصہ نہیں۔
اسی حوالے سے صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس نے 1867 میں ’الاسکا‘ کو 72 لاکھ ڈالر میں امریکا کو فروخت کیا تھا جبکہ ڈنمارک نے 1917 میں ’ورجن آئی لینڈز‘ امریکا کو فروخت کیے تھے جو ایسے زمینی سودوں کی مثالیں ہیں۔
انا کہا کہنا تھا کہ اگر الاسکا کی فروخت کی قیمت کو مہنگائی، گرین لینڈ کے بڑے رقبے اور سونے کی قیمتوں میں تبدیلی کے حساب سے دیکھا جائے تو گرین لینڈ کی قیمت تقریباً ایک ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جو امریکا باآسانی ادا کر سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ وہ یہ معاملہ آپس میں خود ہی طے کر لیں گے۔
اگرچہ گرین لینڈ سے متعلق امریکی اقدامات کے روس پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ گرین لینڈ کے ایک جانب آرکٹک خطہ واقع ہے جہاں روس کا بڑا اثرورسوخ موجود ہے۔
تازہ پیشرفت کے مطابق ڈیووس میں امریکا اور نیٹو کے درمیان گرین لینڈ کے معاملے پر ابتدائی معاہدہ طے پاگیا ہے جو برطانیہ کے سائپرس معاہدے کی طرز پر ہوگا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کے چند منتخب علاقوں پر انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ وہ اس کے معدنی وسائل میں بھی حصہ دار ہو گا۔
ڈیووس میں خطاب کے دوران بھی صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے ٹیرفس عائد کرنے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے اور طاقت کے استعمال کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ معاہدہ گرین لینڈ کے پورے جزیرے کے بجائے چند مخصوص علاقوں پر امریکا کو خودمختاری دے گا۔ امریکا اس معاہدے کے تحت فوجی مشقیں، انٹیلی جنس مشنز اور تربیتی سرگرمیاں ڈنمارک سے اجازت لیے بغیر انجام دے سکے گا اور اپنا جدید گولڈن ڈوم سسٹم بھی نصب کرے گا۔
تاہم یورپی یونین یا ڈنمارک کی جانب سے اس معاہدے پر اتفاق سے متعلق تاحال تصدیق نہیں کی گئی ہے۔