شائع 23 جنوری 2026 01:58pm

ٹک ٹاک کا امریکی پابندی سے بچنے کے لیے جوائنٹ وینچر معاہدہ مکمل

چینی کمپنی بائٹ ڈانس نے اپنے معروف وڈیو پلٹ فارم ”ٹک ٹاک“ سے متعلق امریکی جوائنٹ وینچر ڈیل کا معاہدہ مکمل کر لیا ہے، جس کے تحت امریکی صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ اور امریکا میں ممکنہ پابندوں سے بچایا جا سکے گا۔

یہ قدم ٹک ٹاک کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، کیونکہ کمپنی کئی سالوں سے امریکی حکومت کے دباؤ اور قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہی تھی۔ اگست 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے خدشات کے سبب ایپ پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی۔

۔

نئی شراکت داری میں امریکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے پاس 80.1 فیصد حصہ ہوگا جبکہ چینی کمپنی بائٹ ڈانس 19.9 فیصد مالک رہے گا۔

اس جوائنٹ وینچر کے تین اہم سرمایہ کاروں میں اوریکل، پرائیویٹ ایکویٹی گروپ سلور لیک، اور ابوظہبی کی سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک کا حصہ 15 فیصد ہوگا۔

۔

ٹک ٹاک کے مطابق، اس نئے وینچر کے ذریعے امریکی صارفین کے ڈیٹا اور ایپ کے الگورتھم کو محفوظ بنایا جائے گا اور یہ اوریکل کے امریکی کلاؤڈ سسٹم میں رکھا جائے گا۔ وینچر امریکی صارفین کے ڈیٹا پر الگورتھم کو دوبارہ تربیت، جانچ اور اپ ڈیٹ کرے گا۔

معاہدے کے مطابق وینچر ٹک ٹاک کے بیک اینڈ آپریشنز کو سنبھالے گا، جبکہ چینی کمپنی بائٹ ڈانس ایپ کی آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں جیسے ای کامرس اور اشتہارات پر کنٹرول رکھے گا۔ وینچر اپنے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سروسز کے لیے آمدنی کا ایک حصہ حاصل کرے گا۔

۔

سابق ٹک ٹاک یو ایس ڈی ایس کے عہدیداران ایڈم پریسر اور ول فیریل کو بالترتیب نئے وینچر کا چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف سیکیورٹی آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یو ایس ڈی ایس ٹک ٹاک کا اندرونی ڈیٹا سیکیورٹی یونٹ ہے جو خاص طور پر امریکی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاؤ چیؤ کو بھی اس وینچر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کر لیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر ٹک ٹاک کے کاروبار اور حکمتِ عملی کی قیادت کرتے ہیں۔

Read Comments