شائع 23 جنوری 2026 04:18pm

بنگلادیش میں الیکشن کے لیے انتخابی مہم کا آغاز

بنگلادیش میں آئندہ ماہ فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے خلاف 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ملک میں پہلے قومی انتخابات کے لیے انتخابی مہم جمعرات کو باضابطہ طور پر شروع ہوچکی ہے۔

12 فروری کو ہونے والے انتخابات سے قبل ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے دارالحکومت ڈھاکا سمیت مختلف شہروں میں انتخابی جلسے منعقد کیے۔

بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما طارق رحمان نے شمال مشرقی شہر سلہٹ میں ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا، جبکہ آئندہ دنوں میں وہ دیگر اضلاع کا بھی دورہ کریں گے۔

سلہٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے جماعتِ اسلامی پر مذہبی جذبات کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ طارق رحمان کا کہنا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو قومی خودمختاری کا تحفظ کریں گے اور خواتین و نوجوانوں کے لیے کام کریں گے۔

جماعتِ اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی نے بھی دارالحکومت ڈھاکا میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی کے رہنما ناصرالدین پٹوری نے کہا کہ دہشت گردی، جرائم، بھتہ خوری، کرپشن اور زبردستی قبضے موجود ہیں، ہماری جدوجہد ان کے خلاف ہے تاکہ ایک منصفانہ بنگلہ دیش قائم کیا جا سکے اور خواتین و بچوں کے لیے محفوظ ڈھاکا بنایا جا سکے۔

بنگلا دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہوں گے، جن میں 350 ارکانِ پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جائے گا۔ یورپی یونین کے مبصرین کے مطابق یہ عمل 2026 کا سب سے بڑا جمہوری عمل ہو سکتا ہے۔

یہ انتخابات بنگلہ دیش کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد عبوری حکومت کے تحت ہو رہے ہیں، جبکہ ووٹرز مجوزہ سیاسی اصلاحات پر بھی اپنی رائے دیں گے۔

بنگلادیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم ان کی حکومت کی جانب سے شیخ حسینہ کی سابقہ حکمران جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) طویل عرصے سے ملکی سیاست پر غالب رہی ہیں۔

ملک میں امن و امان کی صورتحال پر بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے عمل کو پُرامن رکھا جائے گا۔

محمد یونس نے 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کے بھارت روانہ ہونے کے تین دن بعد عبوری حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ شیخ حسینہ ملک میں ہونے والے شدید مظاہروں اور کریک ڈاؤن کے دوران سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد بنگلادیش سے فرار ہوگئی تھیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں روپوش ہیں، اور انہیں نومبر میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

Read Comments