اپ ڈیٹ 23 جنوری 2026 08:14pm

افغانستان میں محاذِ جنگ سے دور رہنے کا الزام: سابق نیٹو فوجی ٹرمپ کے بیان پر برہم

یورپ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نیٹو کے سابق فوجیوں نے افغان جنگ میں کردار سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو توہین آمیز اور غلط قرار دیا ہے۔ سابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحادیوں نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ مل کر بھاری جانی قربانیاں دیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مغربی ممالک کے فوجی اتحاد (نیٹو) سے تعلق رکھنے والے سابق فوجیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتحادی افواج افغانستان میں محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہیں۔ سابق فوجیوں نے کہا ہے کہ سیکڑوں یورپی فوجی امریکی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے مارے گئے۔

رائٹرز کے مطابق برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کا نیٹو افواج کے کردار کو کم تر ظاہر کرنا غلط ہے، خصوصاً اس جنگ میں جو دو دہائیوں تک جاری رہی۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کو کبھی نیٹو کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انھوں نے الزام لگایا کہ نیٹو اتحاد میں شامل یورپین افواج افغانستان میں محاذِ جنگ سے دور رہیں۔

ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، خاص طور پر اس بیان کے بعد جس میں انہوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران گرین لینڈ حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

افغانستان اور عراق میں خدمات انجام دینے والے پولینڈ کے ریٹائرڈ جنرل اور سابق اسپیشل فورسز کمانڈر رومن پولکو نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ اس بیان کے ذریعے ’’سرخ لکیر عبور کر چکے ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحادیوں نے اس اتحاد کی قیمت خون سے ادا کی ہے اور وہ اس بیان پر معذرت کے منتظر ہیں۔

برطانیہ کے ویٹرنز منسٹر، الیسٹر کارنز جنہوں نے خود افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ پانچ بار خدمات انجام دیں، انھوں نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ’’مکمل طور پر مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو افواج نے مل کر خون، پسینہ اور آنسو بہائے اور سب واپس گھر نہیں لوٹے۔

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں 2006 میں تعینات پہلے برطانوی بیٹل گروپ کی قیادت کرنے والے ریٹائرڈ کرنل اسٹیورٹ ٹوٹل نے بھی صدر ٹرمپ سے معذرت کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹو میں سرمایہ کاری کم کرنے سے متعلق ٹرمپ کی کچھ تنقید سے وہ جزوی اتفاق کرتے ہیں، مگر افغان جنگ سے متعلق بیانات کو انہوں نے غلط اور بلاجواز قرار دیا۔

برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سابق سربراہ رچرڈ مور نے بھی کہا کہ انہوں نے خطرناک حالات میں امریکی سی آئی اے کے اہلکاروں کے ساتھ کام کیا اور اس اتحاد پر فخر محسوس کیا۔

واضح رہے کہ نیٹو کے اجتماعی دفاع کے معاہدے کی شق 5 کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس شق کا اطلاق صرف ایک بار 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں یورپی اتحادی امریکا کی قیادت میں افغانستان میں فوجی مشن میں شامل ہوئے۔

رائٹرز کے مطابق کچھ سیاست دانوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ صدر ٹرمپ ویتنام جنگ کے دوران طبی وجوہات کی بنیاد پر فوجی سروس سے بچتے رہے تھے۔ برطانوی لبرل ڈیموکریٹس کے سربراہ ایڈ ڈیوی نے کہا کہ جنہوں نے خود فوجی خدمات انجام نہیں دیں، انہیں قربانیوں پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں۔

پولینڈ کے وزیر دفاع ولادیسلاو کوسینیاک-کامش نے کہا کہ افغانستان میں پولینڈ کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی انہیں کم تر کیا جا سکتا ہے۔

Read Comments