اپ ڈیٹ 24 جنوری 2026 02:51pm

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تاریخی تعیناتی، 800 سے زائد ٹوماہاک میزائل حملے کے لیے تیار

اسرائیلی فوجی ریڈیو کا کہنا ہے کہ ایران سے جاری تنازع کے باعث مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج کی تعداد اس ہفتے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد برس گزشتہ جون میں ایران کے خلاف کی گئی کارروائی سے زیادہ ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ کی موجودگی کے خوفناک حجم کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کا ایک بحری بیڑہ فوری استعمال کے لیے تیار 812 ٹوماہاک میزائلوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے۔

اسرائیلی ویب سائٹ جے فیڈ کے مطابق امریکہ نے خطے میں ایک مضبوط آئرن کلیڈ فورس تعینات کی ہے، جس کا مقصد کسی بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کے پاس مشرق وسطیٰ میں ٹوماہاک میزائلوں سے لیس ایک طاقتور نظام موجود ہے۔

ڈپلومیٹک رپورٹر امیچائی اسٹین نے دعویٰ کیا کہ فوری استعمال کے لیے دستیاب ٹوماہاک میزائلوں کی کل تعداد 812 ہے، جو آزاد بحری اثاثوں اور لنکن اسٹرائیک گروپ کے درمیان تقسیم ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ تازہ پیشرفت امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کے تل ابیب دورے کے دوران سامنے آئی ہے۔

عرب خبر رساں ادارے ’العریبیہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ دفاعی حلقے امریکی فوج کی اس تعیناتی کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کیے جانے والے ممکنہ حملے اور دباؤ ڈالنے کے لیے ایک دھمکی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ اسرائیل اور برطانیہ کے مسلسل رابطے کے باوجود ایران کے معاملے پر فی الحال کوئی آپریشنل ہم آہنگی موجود نہیں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حتمی فیصلے تک صورتحال غیر واضح ہے۔

اس حوالے سے ایران کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک ایرانی عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران ہائی الرٹ پر ہے اور بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کو ہمہ گیر جنگ تصور کیا جائے گا جس کا بے مثال عسکری جواب دیا جائے گا۔

اسی حوالے سے ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی کہا کہ اسرائیل ایران پر حملے کا موقع تلاش کر رہا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے۔

محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مینیون ہیوسٹن کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی حکمت عملی ایرانی عوام کی حمایت پر مرکوز ہے، جس کے تحت ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف اور ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایرانی عوام کی حالت زار اور احتجاج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے مظاہرین کو سزائے موت دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا، تو امریکہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

Read Comments