شائع 25 جنوری 2026 12:07am

بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ کابینہ کی منظوری سے ہوا: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اختیار دیا ہے اور امید ہے کہ پورے خطے میں امن قائم ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیووس کا دورہ انتہائی اچھا رہا۔ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ کابینہ کی منظوری سے ہوا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس اقدام سے پورے خطے میں امن کے قیام کی امید پیدا ہوئی ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے، شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کیونکہ جنگ بند ہوئی اور لاکھوں افراد کی جانیں بچیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایم ڈی آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیووس میں ملاقات شاندار رہی۔ ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہا ہے۔

وزیراعظم سے میڈیا نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لے گی، جس پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں قیام امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے مسودے پر دستخط کیے۔ امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، بحرین، مراکش، ارجنٹینا، آرمینیا کے رہنماؤں نے بھی مسودے پر دستخط کیے۔

یہ تقریب سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر منعقد ہوئی تھی، جس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان خصوصی گفتگو بھی ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے امن قائم کرنے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام غزہ کے لیے مثبت تبدیلی اور بہتر مستقبل کا آغاز ثابت ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے چارٹر پر دستخط کرنے والے رہنماؤں سے فرداً فرداً مصافحہ بھی کیا اور دستخط کرنے والے رہنماؤں سے گفتگو بھی کی۔

بورڈ آف پیس مسودے پر متحدہ عرب امارات، قطر، ازبکستان، پیراگوئے، آذربائیجان، بلغاریہ، ہنگری، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، کوسوو اور منگولیا بھی دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

Read Comments