شائع 25 جنوری 2026 08:29am

ملک میں شدید سردی کا ایک اور اسپیل انٹری دینے کو تیار، برفباری سے سڑکیں اور بجلی بند

ملک بھر میں سردی کا ایک اور شدید اسپیل داخل ہونے کو تیار ہے جس کے باعث مختلف علاقوں میں بارش، برفباری اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سردی کی موجودہ لہر آئندہ ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور بالائی علاقوں میں آج سے نئے بارش اور برفباری کے سلسلے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری اور بارش متوقع ہے۔ صوبے میں شدید سرد موسم کے باعث مختلف حادثات میں اب تک نو اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔

وادی سوات کے میدانی علاقوں میں بارش کے بعد سردی میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ مالم جبہ، کالام اور مہوڈنڈ میں برفباری کا سلسلہ رک چکا ہے۔ تاہم غیر معمولی برفباری کے باعث کئی مقامات پر سڑکیں اور بجلی کی فراہمی تاحال معطل ہے اور بند راستوں کو کھولنے کے لیے کام جاری ہے۔

شانگلہ کے علاقوں بشام اور پورن میں پندرہ سال بعد برفباری ریکارڈ کی گئی جہاں الپوری، شانگلہ ٹاپ، اچروسر اور دیگر پہاڑی علاقوں میں تین فٹ تک برف پڑی۔

دیر بالا میں ریکارڈ برفباری کے باعث لنک سڑکیں بند اور بجلی منقطع ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ہزارہ ڈویژن کے مانسہرہ، بٹگرام اور وادی کاغان میں برفباری سے بند سڑکوں کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے تاہم ایبٹ آباد کے علاقے گلیات میں تاحال سڑکیں نہیں کھولی جا سکیں اور سیاحوں کے داخلے پر پابندی برقرار ہے۔

محکمہ موسمیات اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا کے مطابق 25 سے 27 جنوری کے دوران مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ متوقع ہے جس کے تحت چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ عوام اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی 26 اور 27 جنوری کو بارش متوقع ہے جبکہ مری میں دو فٹ سے زائد برفباری کے بعد موسم صاف ہونا شروع ہو گیا ہے اور دن کے وقت دھوپ نکل آئی ہے۔ اس کے باوجود مری میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور سیاحوں کا کہنا ہے کہ برفباری کے بعد مری کا موسم مزید دلفریب ہو گیا ہے۔

گلگت بلتستان میں ایک روز بعد بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم شاہراہ قراقرم سمیت پہاڑی علاقوں میں سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ غذر میں ہر طرف برف ہی برف نظر آ رہی ہے، راستے بند ہونے سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان کے بیشتر علاقوں بشمول کوئٹہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کان مہترزئی اور کوژک ٹاپ پر برف جمنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔

ادھر کراچی میں بھی ٹھنڈی ہواؤں نے موسم کو غیر معمولی طور پر سرد بنا دیا ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کا موسم کوئٹہ جیسا محسوس ہونے لگا ہے۔

محکمہ موسمیات نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری سفر سے بچنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

Read Comments