ٹرمپ نے منی سوٹا کے گورنر اور میئر پر بغاوت کے لیے بھڑکانے کا الزام عائد کردیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منی سوٹا کے گورنر اور میئر پر لوگوں کو بغاوت پر بھڑکانے کا الزام عائد کردیا ہے۔
اخبار دی نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ منی ایپولس میں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد مقامی قیادت کا ردعمل خطرناک ہے اور ان کی بیان بازی حالات کو مزید خراب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر اور میئر کے بیانات بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں، جو امن و امان کے لیے نقصان دہ ہے۔
صدر ٹرمپ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب منی سوٹا کے شہر منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک اور شخص ہلاک ہوا ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
دوسری جانب منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں تحقیقات کے قابل نہیں رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا جا سکتا اور حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ گورنر ٹم والز نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ منی سوٹا سے وفاقی فورسز کو واپس بلایا جائے۔
گورنر ٹم والز نے آئی سی ای کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بے رحمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ درست فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ منی ایپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے اہلکاروں کی فائرنگ کے واقعات نے پہلے ہی عوام میں تشویش پیدا کر رکھی ہے۔ حالیہ ہلاکت کے بعد وفاقی حکومت اور ریاستی قیادت کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں، جبکہ شہری صورتحال کے پرامن حل کے منتظر ہیں۔